Mohammad Amir Azam Quraishi

محمد امیر اعظم قریشی

محمد امیر اعظم قریشی کی غزل

    دامن دراز کر تو رہے ہو دعاؤں کے

    دامن دراز کر تو رہے ہو دعاؤں کے دھبے بھی ہیں نگاہ میں اپنی قباؤں کے سینہ میں سوز مرگ تمنا نہ پوچھئے مرگھٹ میں جیسے اٹھتے ہوں شعلے چتاؤں کے ہم نے تو کشتیوں کو ڈبونا کیا قبول منت گزار ہو نہ سکے ناخداؤں کے دنیا نے ان پہ چلنے کی راہیں بنائی ہیں آئے نظر جہاں بھی نشاں میرے پاؤں ...

    مزید پڑھیے

    مجھے ہو نہ پھر ندامت کہیں عرض حال کر کے

    مجھے ہو نہ پھر ندامت کہیں عرض حال کر کے میں خموش رہ گیا ہوں یہی احتمال کر کے نہ رہے کوئی بھی شکوہ مجھے پھر ترے کرم کا جو عطا مجھے ہو ساقی تو ہو یہ خیال کر کے مجھے آپ نے جو دیکھا تھا وہ اتفاق لیکن مرے دوستوں نے چھیڑا مجھے کیا خیال کر کے مری آرزو کو ٹالا مجھے الجھنوں میں ڈالا کبھی ...

    مزید پڑھیے

    کبھی بھولے بسرے جو میں کہیں کسی مے کدہ میں چلا گیا

    کبھی بھولے بسرے جو میں کہیں کسی مے کدہ میں چلا گیا مرے نام آیا ہے جام اگر نہ لیا گیا نہ پیا گیا گیا بزم حسن و جمال میں جو میں شوق عرض طلب لیے مرے ذہن و دل کا وہ حال تھا کہ زباں سے کچھ نہ کہا گیا مرے نامہ بر نے جو خط دیا مجھے لا کے جان بہار کا ہوئی ذہن و دل کی وہ کیفیت نہ پڑھا گیا نہ ...

    مزید پڑھیے

    کبھی مہر و ماہ و نجوم سے کبھی کہکشاں سے گزر گیا

    کبھی مہر و ماہ و نجوم سے کبھی کہکشاں سے گزر گیا میں تری تلاش میں آخرش حد لا مکاں سے گزر گیا یہ تفاوت صنم و حرم ہے تبھی کہ جب بھی نشہ ہو کم جو بھی غرق بادۂ حق ہوا غم این و آں سے گزر گیا کبھی شہر حسن خیال سے کبھی دشت حزن و ملال سے ترے عشق میں تیرے پیار میں میں کہاں کہاں سے گزر گیا تری ...

    مزید پڑھیے