دامن دراز کر تو رہے ہو دعاؤں کے
دامن دراز کر تو رہے ہو دعاؤں کے دھبے بھی ہیں نگاہ میں اپنی قباؤں کے سینہ میں سوز مرگ تمنا نہ پوچھئے مرگھٹ میں جیسے اٹھتے ہوں شعلے چتاؤں کے ہم نے تو کشتیوں کو ڈبونا کیا قبول منت گزار ہو نہ سکے ناخداؤں کے دنیا نے ان پہ چلنے کی راہیں بنائی ہیں آئے نظر جہاں بھی نشاں میرے پاؤں ...