Mohammad Ali Khan Rashki

محمد علی خاں رشکی

محمد علی خاں رشکی کے تمام مواد

2 غزل (Ghazal)

    خانقاہ و دیر میں جاتے ہیں ہم

    خانقاہ و دیر میں جاتے ہیں ہم ڈھونڈھتے جو ہیں نہیں پاتے ہیں ہم جب سے عریانی ہوا اپنا لباس جامے سے باہر ہوئے جاتے ہیں ہم اور بڑھتا ہے انہیں شوق جفا آنکھ میں آنسو جو بھر لاتے ہیں ہم وہ جفا کر کے نہیں ہوتے خجل یاں گلہ کرنے سے شرماتے ہیں ہم ہم سے بڑھ کر کوئی دیوانہ نہیں دل سے دیوانہ ...

    مزید پڑھیے

    لطف ظاہر کر دیا درد نہانی دیکھ کر

    لطف ظاہر کر دیا درد نہانی دیکھ کر رحم نے پائی ہے قوت ناتوانی دیکھ کر جو کہ ملتی ہو ہماری سرگزشت عشق سے قصہ خواں کہنا وہاں ایسی کہانی دیکھ کر تجھ سے گو ملتے نہیں داغ غم ہجراں تو ہے شکر ہے جیتے تو ہیں تیری نشانی دیکھ کر کون ہے خون جگر آشام میں یا مدعی دیجیو ساقی شراب ارغوانی دیکھ ...

    مزید پڑھیے