Mohammad Afsar Sajid

محمد افسر ساجد

محمد افسر ساجد کی نظم

    ندامت

    ہم جو اک جاں کے سفر پر ہیں رواں برسوں سے ہم کو معلوم نہیں کب اور کہاں ختم ہو یہ ہم تو بس تشنہ دہن لب بہ دعا کشتۂ غم اپنے ہونے ہی میں گم پڑھ نہ سکے ہیں اب تک وقت کے باب ندامت میں نہاں تحریریں ان کو پڑھ لیتے تو شاید نہ یوں حیراں ہوتے اک تماشے کی طرح وقت پہ عریاں ہوتے اپنی خواہش کو سر ...

    مزید پڑھیے