Moghisuddin Fareedi

مغیث الدین فریدی

مغیث الدین فریدی کے تمام مواد

15 غزل (Ghazal)

    آنسو بھی بہا کر دیکھ لیے سوز غم پنہاں کم نہ ہوا

    آنسو بھی بہا کر دیکھ لیے سوز غم پنہاں کم نہ ہوا دل میں تری الفت کا شعلہ شعلہ ہی رہا شبنم نہ ہوا دنیا کی بہاروں میں کھو کر میں اپنی نظر سے چھپ جاتا صد شکر دل آگاہ مرا دل بن گیا جام جم نہ ہوا تھا داغ تمنا روح شکن کچھ ہمت غم کام آ ہی گئی دل میں تو بڑے طوفان اٹھے آنسو نہ بہے ماتم نہ ...

    مزید پڑھیے

    شعور ذات تھوڑا سا دل ناداں میں رکھتے ہیں

    شعور ذات تھوڑا سا دل ناداں میں رکھتے ہیں جمال آگہی جہل خرد افشاں میں رکھتے ہیں چمن کیسا بیاباں کیا سمٹ آئے گی یہ دنیا جنوں کے دم سے اتنی وسعتیں داماں میں رکھتے ہیں نظر کے سامنے رہتا ہے عکس گردش دوراں ہم آئینہ کو دل کے روزن زنداں میں رکھتے ہیں ہجوم غم میں یادوں کے نہاں خانے مہک ...

    مزید پڑھیے

    تو اپنے پندار کی خبر لے کہ رخ ہوا کا بدل رہا ہے

    تو اپنے پندار کی خبر لے کہ رخ ہوا کا بدل رہا ہے تری نظر سے بہکنے والا فریب کھا کر سنبھل رہا ہے یہی ہے دستور شہر ہستی کہ جو نیا ہے وہی پرانا حیات انگڑائی لے رہی ہے زمانہ کروٹ بدل رہا ہے رہ طلب میں جنوں نے اکثر شعور کو آئینہ دکھایا جسے تھا عذر شکستہ پائی وہ اب ستاروں پہ چل رہا ...

    مزید پڑھیے

    حسن ظن کام لیجے بد گمانی پھر سہی

    حسن ظن کام لیجے بد گمانی پھر سہی بے تکلف اور کیجے مہربانی پھر سہی آج جو بیتی ہے دل پر ماجرا اس کا سنو داستان عشرت عہد جوانی پھر سہی ظرف سے کم وقت سے پہلے نہیں ملتی یہاں آج زہر غم ہی پی لو ارغوانی پھر سہی تیغ کس کے ہاتھ میں تھی کون تھا سینہ سپر یہ کہانی آج سن لو وہ کہانی پھر ...

    مزید پڑھیے

    دل بے قرار چلا تو تھا گلۂ حیات لیے ہوئے

    دل بے قرار چلا تو تھا گلۂ حیات لیے ہوئے غم عشق روح پہ چھا گیا غم کائنات لیے ہوئے کبھی بے ارادہ چھلک گئی تھی کسی کے ذکر پہ چشم نم وہ ہیں مجھ سے آج بھی بد گماں وہی ایک بات لیے ہوئے مرے دل کے ساتھ ہی چھین لے مری خود شناس نگاہ بھی میں ترے قریب نہ آؤں گا یہ توہمات لیے ہوئے کبھی تجھ پہ ...

    مزید پڑھیے

تمام