آنسو بھی بہا کر دیکھ لیے سوز غم پنہاں کم نہ ہوا
آنسو بھی بہا کر دیکھ لیے سوز غم پنہاں کم نہ ہوا دل میں تری الفت کا شعلہ شعلہ ہی رہا شبنم نہ ہوا دنیا کی بہاروں میں کھو کر میں اپنی نظر سے چھپ جاتا صد شکر دل آگاہ مرا دل بن گیا جام جم نہ ہوا تھا داغ تمنا روح شکن کچھ ہمت غم کام آ ہی گئی دل میں تو بڑے طوفان اٹھے آنسو نہ بہے ماتم نہ ...