جب سے دیکھا ہے بنا گوش قمر میں تنکا
جب سے دیکھا ہے بنا گوش قمر میں تنکا پھانس کی طرح کھٹکتا ہے جگر میں تنکا نیزہ بازی پہ ہمیں اپنی نہ دھمکا اے ترک ہم سمجھتے ہیں اسے اپنی نظر میں تنکا آتش نالۂ بلبل یہ چمن میں بھڑکی نہ بچا نام کو صیاد کے گھر میں تنکا خار مژگاں کو نظر بھر کے نہ دیکھا میں نے پڑ گیا اڑ کے مرے دیدۂ تر ...