Miyan dad Khan Sayyah

میاں داد خاں سیاح

میاں داد خاں سیاح کی غزل

    جب سے دیکھا ہے بنا گوش قمر میں تنکا

    جب سے دیکھا ہے بنا گوش قمر میں تنکا پھانس کی طرح کھٹکتا ہے جگر میں تنکا نیزہ بازی پہ ہمیں اپنی نہ دھمکا اے ترک ہم سمجھتے ہیں اسے اپنی نظر میں تنکا آتش نالۂ بلبل یہ چمن میں بھڑکی نہ بچا نام کو صیاد کے گھر میں تنکا خار مژگاں کو نظر بھر کے نہ دیکھا میں نے پڑ گیا اڑ کے مرے دیدۂ تر ...

    مزید پڑھیے

    نہیں ملتا دلا ہم کو نشاں تک

    نہیں ملتا دلا ہم کو نشاں تک مکاں ڈھونڈ آئے اس کا لا مکاں تک بنا ہر موئے تن خار مغیلاں ستایا جوش وحشت نے یہاں تک ہماری جان کے پیچھے پڑا ہے دل ناداں کو سمجھائیں کہاں تک رواں شب کو ہوا کیا ناقۂ روح نظر آئی نہ گرد کارواں تک زمیں پہ زلزلہ آیا تو پہنچا مرے نالوں کا غوغا آسماں تک ملے ...

    مزید پڑھیے

    اپنے ہی دم سے ہے چرچا کفر اور اسلام کا

    اپنے ہی دم سے ہے چرچا کفر اور اسلام کا گاہ عابد ہوں خدا کا گہہ پجاری رام کا لوٹتے ہیں جس کو سن سن کر ہزاروں مرغ دل ہو رہا ہے ذکر کس کے گیسوؤں کے دام کا چشم مست یار کا ہم چشم لو پیدا ہوا دیکھنا اب پوست کھینچا جائے گا بادام کا سیر کرتا ہے وہ عالم کی مرا پیک نگاہ لاکھ ہے بے دست و پا ...

    مزید پڑھیے

    ترک ان دنوں جو یار سے گفت و شنید ہے

    ترک ان دنوں جو یار سے گفت و شنید ہے ہم کو محرم اور رقیبوں کو عید ہے شاید ہمارے قول پہ حبل الورید ہے ہم سے خدا قریب ہے کعبہ بعید ہے گزرا مہ صیام نہ کیوں پنجۂ شراب خالی کا چاند یہ نہیں ہے ماہ عید ہے شغل اپنا بادہ خواری ہے اور تاک سلسلہ پیر مغاں بھی ایک ہمارا مرید ہے دل لے چکے ہیں ...

    مزید پڑھیے

    ہے دل کو اس طرح سے مرے یار کی تلاش

    ہے دل کو اس طرح سے مرے یار کی تلاش جس طرح تھی کلیم کو دیدار کی تلاش ہوں رند سر کھلا بھی جو ہووے تو ڈر نہیں زاہد نہیں کہ مجھ کو ہو دستار کی تلاش میں ہوں کہیں پہ آٹھوں پہر ہے اسی کی فکر جاتی نہیں ہے دل سے مرے یار کی تلاش دل ہاتھوں ہاتھ بک گیا بازار عشق میں کرنی پڑی نہ مجھ کو خریدار ...

    مزید پڑھیے

    قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو

    قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو لال ڈورے تری آنکھوں میں جو دیکھے تو کھلا مئے گل رنگ سے لبریز ہیں پیمانے دو ٹھہرو تیوری کو چڑھائے ہوئے جاتے ہو کدھر دل کا صدقہ تو ابھی سر سے اتر جانے دو منع کیوں کرتے ہو عشق بت شیریں لب سے کیا مزے کا ہے یہ غم ...

    مزید پڑھیے

    کبھی ادھر جو سگ کوئے یار آ نکلا

    کبھی ادھر جو سگ کوئے یار آ نکلا گماں ہوا مرے ویرانہ میں ہما نکلا رخ اس کا دیکھ ہوا زرد نیر اعظم سنہرے برج سے جس دم وہ مہ لقا نکلا وہ سن کے پاک محبت کا نام کہتے ہیں ہماری جان کو لو یہ بھی پارسا نکلا ہمارے پاؤں پڑے آ کے آبلے ہر گام کبھی جو دشت جنوں میں برہنہ پا نکلا مہ صیام میں آیا ...

    مزید پڑھیے

    کون صیاد ادھر بہر شکار آتا ہے

    کون صیاد ادھر بہر شکار آتا ہے طائر دل قفس تن میں جو گھبراتا ہے زلف مشکیں کا جو اس شوخ کے دھیان آتا ہے زخم سے سینۂ مجروح کا چر جاتا ہے ہجر میں موت بھی آئی نہ مجھے سچ ہے مثل وقت پر کون کسی کے کوئی کام آتا ہے اب تو اللہ ہے یاران وطن کا حافظ دشت میں جوش جنوں ہم کو لیے جاتا ہے ڈوب کر ...

    مزید پڑھیے