Mirza Raza Quli Ashufta

مرزا رضا قلی آشفتہ

مرزا رضا قلی آشفتہ کی غزل

    یہ جوش غم ہے کہ سینہ میں خوں ابلتا ہے

    یہ جوش غم ہے کہ سینہ میں خوں ابلتا ہے نہ رکھیو ہاتھ کلیجہ پہ میرے جلتا ہے نہ پوچھو دل کی حقیقت تمہارے عشق میں آہ اسے وہ غم جو لگا ہے اسی میں گلتا ہے یہ ہم کو اس کی جوانی نے اور ایذا دی کہ رات دن کوئی سینے میں دل کو ملتا ہے کسی کے کان کا در دیکھا تو نے آشفتہؔ جو اشک آنکھوں سے موتی ...

    مزید پڑھیے