Mirza Raza Barq

مرزارضا برق ؔ

دبستان لکھنؤ کے ممتاز کلاسیکی شاعر، اودھ کے آخری نواب واجد علی شاہ کے استاد

Prominent classical poet of Lucknow School/ Wajid Ali Shah, the last Nawab of Awadh was his disciple

مرزارضا برق ؔ کے تمام مواد

21 غزل (Ghazal)

    پردہ الٹ کے اس نے جو چہرا دکھا دیا

    پردہ الٹ کے اس نے جو چہرا دکھا دیا رنگ رخ بہار گلستاں اڑا دیا وحشت میں قید دیر و حرم دل سے اٹھ گئی حقا کہ مجھ کو عشق نے رستا بتا دیا پھر جھانک تاک آنکھوں نے میری شروع کی پھر غم کا میرے نالوں نے لگا لگا دیا انگڑائی دونوں ہاتھ اٹھا کر جو اس نے لی پر لگ گئے پروں نے پری کو اڑا ...

    مزید پڑھیے

    جب عیاں صبح کو وہ نور مجسم ہو جائے

    جب عیاں صبح کو وہ نور مجسم ہو جائے گوہر شبنم گل نیر اعظم ہو جائے مرثیہ ہو مجھے گانا جو سنوں فرقت میں بے ترے بزم غنا مجلس ماتم ہو جائے دیکھ کر طول شب ہجر دعا کرتا ہوں وصل کے روز سے بھی عمر مری کم ہو جائے دیکھ کر پھولوں کو انگاروں پہ لوٹوں اے گل بے ترے گلشن فردوس جہنم ہو جائے کم ...

    مزید پڑھیے

    مطلب نہ کعبہ سے نہ ارادہ کنشت کا

    مطلب نہ کعبہ سے نہ ارادہ کنشت کا پابند یہ فقیر نہیں سنگ و خشت کا سر سبز ہوں جو آپ دکھا دیجے خط سبز کشتوں کو کھیت میں ابھی عالم ہو کشت کا اس حور کی جو گلشن عارض کی یاد تھی دیکھا کیا فراق میں عالم بہشت کا کیا منشی ازل کی یہ صنعت ہے دیکھنا ماہر نہیں کسی کی کوئی سر نوشت کا نادان ...

    مزید پڑھیے

    شمع بھی اس صفا سے جلتی ہے

    شمع بھی اس صفا سے جلتی ہے تیرے رخ پر نگہ پھسلتی ہے خاک اڑاتی ہے اے صبا میری بے ادب کس طرح سے چلتی ہے وہ نہ آیا تو جان جائیں گے کب طبیعت مری بہلتی ہے دل نکلتا ہے اس کے گیسو سے ناگنی دیکھو من اگلتی ہے نگہ گرم یار دیکھے ہے کب کسی سے یہ آنکھ جلتی ہے اک پری رو پہ برقؔ مرتا ہوں جان اس ...

    مزید پڑھیے

    نہ رہے نامہ و پیغام کے لانے والے

    نہ رہے نامہ و پیغام کے لانے والے خاک کے نیچے گئے عرش کے جانے والے کشور عشق کی رسمیں عجب الٹی دیکھیں سلطنت کرتے ہیں سب دل کے چرانے والے منعمو عالم دنیا ہے سرائے عبرت جائیں گے سوئے عدم خلق میں آنے والے بوریا ساتھ نہ جائے گا نہ تخت سلطاں سب برابر ہیں بشر خلق سے جانے والے کوئی ...

    مزید پڑھیے

تمام