Mirza Rahimuddin Haya

مرزا رحیم الدین حیا

  • 1797 - 1887

مرزا رحیم الدین حیا کی غزل

    ہم بھی دیکھیں گے کہ آنا ترا کیونکر نہ ہوا

    ہم بھی دیکھیں گے کہ آنا ترا کیونکر نہ ہوا یہ بھی اک کھیل ہوا فتنۂ محشر نہ ہوا ہم ہی تھے خاک کے پتلے کہ ہوئے جل کر خاک اے فلک اور کوئی تجھ کو میسر نہ ہوا وائے ناکامئ قسمت کہ کبھی حلق اپنا قابل خنجر و شمشیر ستم گر نہ ہوا ہم نہ کہتے تھے کیا کر نہ سدا شور‌ و فغاں انہیں باتوں سے ...

    مزید پڑھیے

    نہ رکھے جب کہ وہ بے باک لحاظ

    نہ رکھے جب کہ وہ بے باک لحاظ کہئے عاشق کو رہے خاک لحاظ تابکے شکوۂ گردش نہ کریں کب تک اے گردش افلاک لحاظ روبرو غیر کے رونا کیا ہے چاہیے دیدۂ نمناک لحاظ اب کے اک شور نمک پر ہوگا نہ رکھیں گے یہ جگر چاک لحاظ آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا دم قتل دیکھ اپنا بت سفاک لحاظ کیوں نہ پامال ہوں ...

    مزید پڑھیے

    مجھے خیال ہوا اور عدو کو خواب ہوا

    مجھے خیال ہوا اور عدو کو خواب ہوا نصیب پر نہ ہوا یہ کہ ایک عذاب ہوا ہوئی لبوں کو نہ جنبش کہ بس عتاب ہوا تمہارا نام نہ لینا ہوا عذاب ہوا ایک اژدہام ہے اس شوخ کی گلی میں آج مرے نصیب سے محشر بپا شتاب ہوا بگاڑی خو تری کس نے بتا تو اے ظالم زباں پہ بوسہ کا نام آتے ہی عتاب ہوا گلی گلی ...

    مزید پڑھیے

    موت ہی چارہ ساز فرقت ہے

    موت ہی چارہ ساز فرقت ہے رنج مرنے کا مجھ کو راحت ہے ہو چکا وصل وقت رخصت ہے اے اجل جلد آ کہ فرصت ہے روز کی داد کون دیوے گا ظلم کرنا تمہاری عادت ہے کارواں عمر کا ہے رخت بدوش ہر نفس بانگ کوس رحلت ہے سانس اک پھانس سی کھٹکتی ہے دم نکلتا نہیں مصیبت ہے تم بھی اپنے حیاؔ کو دیکھ آؤ آج اس ...

    مزید پڑھیے