Mirza Maseeta Beg Muntahi

مرزا مسیتابیگ منتہی

مرزا مسیتابیگ منتہی کے تمام مواد

25 غزل (Ghazal)

    حسن کی دل میں مرے جلوہ گری رہتی ہے

    حسن کی دل میں مرے جلوہ گری رہتی ہے بند اس شیشۂ نازک میں پری رہتی ہے دل وہاں کھلتا ہے جس جا کہ رہے جام شراب دانہ واں اگتا ہے جس جا کہ تری رہتی ہے طفلی و عہد جوانی کا نہ پوچھو احوال بے خودی آگے تھی اب بے خبری رہتی ہے باغ عالم میں نہیں دست کرم کو ہے زوال شاخ یہ وہ ہے جو تا حشر ہری ...

    مزید پڑھیے

    جان دی ان پہ مر مٹے سسکے

    جان دی ان پہ مر مٹے سسکے ہیں حسیں لوگ آشنا کس کے ان کو سکھلائی ہم نے آرائش روح پھونکی ہے شخص بے حس کے نالے پہنچے غریب کے تا عرش بچ گئے ڈنکے مرد مفلس کے رکھ کے خنجر گلے پہ کہتا ہے مار ڈالا اگر ذرا کھسکے بزم میں جا ملی رفیقوں کو کانٹے بوئے ہیں باغ میں بس کے کیا بتائیں کہ کس کے ...

    مزید پڑھیے

    آپ آئے تھے یاں جفا کے لئے

    آپ آئے تھے یاں جفا کے لئے جائیے بھی کہیں خدا کے لئے دل دیا تھا تمہیں جفا کے لئے ہوش میں آئیے خدا کے لئے تیرے بازار دہر میں گردوں ہم بھی آئے ہیں اک قبا کے لئے پاؤں ہیں کوچۂ توکل میں ہاتھ اٹھتے نہیں دعا کے لئے آ کبھی تو مرے قفس کی طرف اے نسیم چمن خدا کے لئے ہے تہ خاک فرش خاک ...

    مزید پڑھیے

    منصور پیتے ہی مئے الفت بہک گیا

    منصور پیتے ہی مئے الفت بہک گیا جام‌ مئے الست بھرا تھا چھلک گیا پیری ہوئی شباب سے اترا جھٹک گیا شاعر ہوں میرا مصر ثانی لٹک گیا مجھ رند‌ پاک کا کبھی چلو نہ بھر دیا ساقی ترے کرم سے ہر اک یار چھک گیا میں لوٹ ہو گیا ہوں خط سبز رنگ پر خار چمن سے دامن دل پہ اٹک گیا پیری میں دل دیا بت ...

    مزید پڑھیے

    میٹھی ہے ایسی بات اس کی

    میٹھی ہے ایسی بات اس کی لونڈی ہے اک نبات اس کی سمجھا نہ میں ایک بات اس کی مجھ پر کیا کائنات اس کی عالم ہے بے ثبات اے دل اک ذات کو ہے ثبات اس کی مہ اس کا ہے آفتاب اس کا دن اس کا ہے اور رات اس کی کس منہ سے کروں میں وصف اس کا ہے عقل سے دور ذات اس کی ممبر پہ جو بک رہا ہے واعظ کب سنتا ...

    مزید پڑھیے

تمام