Mirza Mahmood Sarhadi

مرزا محمود سرحدی

مرزا محمود سرحدی کی غزل

    پکارنے کا قرینہ میں سوچتا ہی رہا

    پکارنے کا قرینہ میں سوچتا ہی رہا حسیں کہوں کہ حسینہ میں سوچتا ہی رہا نمی سی تھی دم رخصت کچھ ان کے آنچل پر وہ اشک تھے کہ پسینہ میں سوچتا ہی رہا ترے کرم کی کوئی حد نہیں حساب نہیں چبا کے نان شبینہ میں سوچتا ہی رہا ادھر وہ پہلی کو آئے تھے ایک پل کے لیے ادھر تمام مہینہ میں سوچتا ہی ...

    مزید پڑھیے