بتاں جب کہ زلف دوتا باندھتے ہیں
بتاں جب کہ زلف دوتا باندھتے ہیں گرہ میں دل مبتلا باندھتے ہیں نہیں بنتی بلبل سے اپنی چمن میں ہم اب آشیانہ جدا باندھتے ہیں جفا کھینچیں گے پر نہ ہاریں گے جی کو یہ ہم تم سے شرط وفا باندھتے ہیں گرہ دے کے سر پر جو بالوں کا جوڑا یہ نازک بدن خوش ادا باندھتے ہیں ہر اک تار میں اس کے دل ...