Mirza Azfari

مرزا اظفری

مرزا اظفری کے تمام مواد

33 غزل (Ghazal)

    تری تیغ ابرو کی ٹک سامنے کر دیکھیں تو

    تری تیغ ابرو کی ٹک سامنے کر دیکھیں تو بچے خورشید بھی رکھ منہ پہ سپر دیکھیں تو میرے خورشید لقا دید کی ٹک رخصت دے تیرے دیدار کو پھر ایک نظر دیکھیں تو تیغ تولے ہوے کاندھے پہ جو آیا ہے سوار او سجیلے مرے گھوڑے سے اتر دیکھیں تو مر گیا جو اسے کہتے ہیں ہوا آج وصال جی رچا زیست سے اس ہجر ...

    مزید پڑھیے

    گرہ جو کام میں ڈالے ہے پنجۂ تقدیر

    گرہ جو کام میں ڈالے ہے پنجۂ تقدیر مجال کیا کہ کھلے وہ بہ ناخن تدبیر دلا تڑپھ کے تو نکلا پڑے ہے سینے سے یہ گھر اجاڑ نہ اے گھر بسے پکڑ ٹک دھیر شب فراق میں جاناں کی میں رہا جیتا کہ سخت جان ہے مجھ کو حجاب دامن گیر لب اس کے دیکھو تو ہے ظلم و خوں خوری کی دلیل سیہ مسی پہ نہیں سرخ پان کی ...

    مزید پڑھیے

    خزاں تنہا نہ سیر بوستاں کو جا بگاڑ آئی

    خزاں تنہا نہ سیر بوستاں کو جا بگاڑ آئی صبا بھی چل کے واں اے بلبلو پھولوں کو جھاڑ آئی شب بیمار یا کالی بلا یا رات کالی ہے قیامت آئی یا چھاتی پہ یہ ہجراں پہاڑ آئی جو آیا یار تو تو ہو چلا غش اے دوانے دل اسی دم تجھ کو مرنا تھا بتا کیا تجھ کو دہاڑ آئی مثل ہے بر محل اے اظفریؔ جو کہ گیا ...

    مزید پڑھیے

    نم اشک آنکھوں سے ڈھلنے لگا ہے

    نم اشک آنکھوں سے ڈھلنے لگا ہے کہ فوارہ خوں کا اچھلنے لگا ہے ڈبا دل کا گھر آنکھ تک آن پہنچا اب آنسو کا نالا ابلنے لگا ہے یہ سیب آنب شفتالو نارنگی کمرکھہ ترے باغ کا میوہ پلنے لگا ہے تمہاری میاں دیکھ یہ پھل پھلاری مرا طفل دل تو مچلنے لگا ہے کھجوریں سموسے تلے کچھ دلا دو اجی! جی مرا ...

    مزید پڑھیے

    اس کی صورت کو دیکھ کر بھولے

    اس کی صورت کو دیکھ کر بھولے ہائے ہم بھولے سر بسر بھولے منہ کا میٹھا تھا پیٹ کا کھوٹا جھوٹی میٹھی سی بات پر بھولے دیکھو اس میری یاد کو اور وہ مجھ پہ کرتا نہیں نظر بھولے اس کے عشاق ہو گئے وحشی سب یہ خانہ خراب گھر بھولے جب فراموش و یاد بھی کھیلے ایک ادھر ہم تم اک ادھر بھولے ہم ...

    مزید پڑھیے

تمام