آخر نہ چلی کوئی بھی تدبیر ہماری
آخر نہ چلی کوئی بھی تدبیر ہماری بن بن کے بگڑنے لگی تقدیر ہماری یہ عشق کے ہاتھوں ہوئی توقیر ہماری بازاروں میں بکنے لگی تصویر ہماری اس طرح کے دن رات دکھاتی ہے کرشمے تقدیر پس پردۂ تدبیر ہماری جلدی نہ کرو دھار ہے خنجر پہ ابھی تو ہو لینے دو ثابت کوئی تقصیر ہماری کچھ خون کی ...