Mirza Altaf Husain Alim Lucknowi

میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی

میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی کے تمام مواد

19 غزل (Ghazal)

    آخر نہ چلی کوئی بھی تدبیر ہماری

    آخر نہ چلی کوئی بھی تدبیر ہماری بن بن کے بگڑنے لگی تقدیر ہماری یہ عشق کے ہاتھوں ہوئی توقیر ہماری بازاروں میں بکنے لگی تصویر ہماری اس طرح کے دن رات دکھاتی ہے کرشمے تقدیر پس پردۂ تدبیر ہماری جلدی نہ کرو دھار ہے خنجر پہ ابھی تو ہو لینے دو ثابت کوئی تقصیر ہماری کچھ خون کی ...

    مزید پڑھیے

    آپ دل کھول کر بیداد پہ بیداد کریں

    آپ دل کھول کر بیداد پہ بیداد کریں اور ہم ضبط سے لیں کام نہ فریاد کریں حشر میں اس کی نظر ہو گئی نیچی ہم سے ہو سکے جن سے وہ اب شکوۂ جلاد کریں کچھ تو فرمائیے انصاف اگر ہے کوئی چیز آپ کو دل سے بھلائیں تو کسے یاد کریں دل بے تاب سنبھلتا ہی نہیں سینے میں ایک مظلوم کی اب آپ کچھ امداد ...

    مزید پڑھیے

    نہ فلک ہوگا نہ یہ کوچۂ قاتل ہوگا

    نہ فلک ہوگا نہ یہ کوچۂ قاتل ہوگا مرے کہنے میں کسی دن جو مرا دل ہوگا جب نمایاں وہ سوار رہ منزل ہوگا نہ تو میں آپ میں ہوں گا نہ مرا دل ہوگا آدھی رات آ گئی بس بس دل بے تاب سنبھل ہم سمجھتے ہیں جو اس کرب کا حاصل ہوگا رخصت اے وحشت تنہائی و غربت رخصت خوف ہی کیا ہے جو ہم راہ مرے دل ...

    مزید پڑھیے

    گھر کے گھبراتے نہ تھے ہجر کے آزاروں میں

    گھر کے گھبراتے نہ تھے ہجر کے آزاروں میں جب کہ طاقت تھی کبھی آپ کے بیماروں میں لے کے ہم دل گئے کہتے یہ جفا کاروں میں کون لیتا ہے اسے اتنے خریداروں میں دی رہائی مجھے صیاد نے اے وائے نصیب دخل جب فصل خزاں کا ہوا گلزاروں میں میرے مرنے کا ہوا رنج ہر اک قیدی کو کہ ہے کہرام بپا تیرے ...

    مزید پڑھیے

    لیجئے ختم ہوا گردش تقدیر کا رنگ

    لیجئے ختم ہوا گردش تقدیر کا رنگ آئیے دیکھیے مٹتی ہوئی تصویر کا رنگ ہم نے جھیلی ہیں زمانے میں کشش کی کڑیاں ہم سے پوچھے کوئی بگڑی ہوئی تقدیر کا رنگ ذکر تدبیر عبث فکر رہائی بے سود جب کہ مٹتا نظر آنے لگا تقدیر کا رنگ ہم بھی آئے ہیں کفن باندھ کے سر سے قاتل دیکھنا ہے تری چلتی ہوئی ...

    مزید پڑھیے

تمام

2 نظم (Nazm)

    نظم اتحاد

    فصل بہار آئی مگر ہم ہیں اور غم ہر سمت سے ہیں گھیرے ہوئے صدمہ و الم آئی نہ اف زباں پہ ستم پر ہوئے ستم کیا امتحاں کے واسطے ٹھہرے ہیں صرف ہم جب اپنی قوتوں پہ بھروسا نہیں رہا بہتر ہے پھر جہاں سے اٹھا لے ہمیں خدا اس عمر چند روزہ میں کی لاکھ جستجو چھانی ہے ہم نے خاک زمانے میں کو بہ کو شکوہ ...

    مزید پڑھیے

    ہجر کی راتیں

    ہجر کی راتیں کالی کالی اس پر یاد کسی کی جاری ایسے گہرے سناٹے میں کس سے کہیں ہم غم کی کہانی دنیا ساری سوتی ہے تارے گننا بے چینی میں آہیں بھرنا بیتابی میں آہ ہماری سونے والو اس حالت میں لاچاری میں رات بسر یوں ہوتی ہے کشتۂ غم کی اب تربت پر حسرت روتی ہے حسرت پر ایک اداسی کا عالم ...

    مزید پڑھیے