Mirza Adeeb

مرزا ادیب

پاکستان کے معروف افسانہ نگار اور ڈرامہ نویس۔ پاکستان کے اہم ادبی اعزازات سے سرفراز۔

A noted story writer and playwright from Pakistan; also a recipient of important awards of Pakistan.

مرزا ادیب کی رباعی

    خون کی ایک بوتل

    ڈاکٹر ابھی ابھی راؤنڈ کرکے باہر نکلا تھا۔ ماں نے آنکھیں بند کرلی تھیں۔ شاید وہ سو چکی تھی۔ اس کا جی چاہا کہ ذرا ادھر اُدھر گھوم پھر آئے اور وہ دروازے کی طرف جانے لگا۔ دروازے سے کچھ دور ہی تھا کہ نرس جو ڈاکٹر کے ساتھ باہر گئی تھی تیزی سے اندر آتی ہوئی دکھائی دی۔ اس نے ہاتھ کےاشارے ...

    مزید پڑھیے

    رپورٹر

    وہ علاقہ جو صرف ایک سال پیشتر ایک انتہائی پس ماندہ گاؤں سمجھا جاتا تھا، حکومت اور لوگوں کی مشترکہ منصوبہ بندی، ایثار اور محبت سے ایک اچھاخاصا ترقی یافتہ قصبہ بنگیا تھا۔ کھنڈرات کی جگہ ایک منزلہ، دومنزلہ اور کہیں کہیں سہ منزلہ مکانات سراٹھائے کھڑے تھے۔ شاندار حویلیاں بھی اپنے ...

    مزید پڑھیے

    اولڈ ایج ہوم

    آخری سیڑھی اور اس کے کمرے کے درمیان کم و بیش دس گز کا فاصلہ حائل تھا اور یہ فاصلہ اس کے لیے ایک بڑی آزمائش کا حرملہ بن جاتا تھا۔ کمرے کا دروازہ بند ہوتا تھا تو اسے کسی قدر اطمینان ہوجاتا تھا کہ اس کے پوتے اور پوتیوں کے حملے سے اس کا کمرہ محفوظ ہے مگر جب اس کے دونوں پٹ کھلے ہوتے تھے ...

    مزید پڑھیے

    ماں

    ’’بیٹی اچھی!‘‘ یہ آواز، ایک عالیشان عمارت، اسمٰعیل بلڈنگ کے دروازے کے پاس بجلی کے کھمبے کے نیچے کھڑی ہوئی، ایک برقعہ پوش عورت کے لبوں سے نکلی اور اس کے قریب کھڑی ہوئی سردی سے ٹھٹھرتی ہوئی ایک کمسن لڑکی، اس کی ٹانگوں سے لپٹ گئی۔ ’’کیوں اماں؟‘‘ ’’جاؤ بیٹی! اندر چلی جاؤ، ...

    مزید پڑھیے

    ساتواں چراغ

    گرمی ہو یا سردی شمالی پہاڑی کی بلندیوں سے سرد ہوائیں مسلسل نیچے اترتی رہتی ہیں۔ کبھی تو بڑی بوجھل ہوتیں اور کبھی نسبتاً ہلکی۔ یہ ہوائیں جب بھی اس بے آب و گیاہ علاقے میں سے گزرتی تھیں تو کہیں بھی ٹھہرنے کا نام نہیں لیتی تھیں۔ کیونکہ کوئی دیوار، درختوں کی کوئی قطار ان کے راستے میں ...

    مزید پڑھیے

    خاندانی کرسی

    ایئرپورٹ سے نکل کر جب وہ لاہور کی وسیع، شاداب اور خوبصورت سڑکوں سے اپنے بھتیجے کے ساتھ گزرنے لگا تو اسے انیس برس کے پرانے لاہور اور موجودہ لاہور میں کوئی خاص فرق محسوس نہ ہوا۔ کوئی بھی ایسی تبدیلی اسے نظر نہ آئی جو پرانے لاہور سے نئے لاہور کو الگ کرتی۔ وہی سب کچھ تو تھا جو وہ ...

    مزید پڑھیے

    شاہی رقاصہ

    شاہی دربار کی حسین ترین رقاصہ اپنے آراستہ و پیراستہ کمرے میں داخل ہوئی اور ایک لفظ کہے بغیر کنیزوں کی مدد سے اپنی سیر کامخصوص لباس اتارنے لگی۔ اور چند منٹ بعد اس کام سے فراغت پاکر مخملیں کرسی میں دھنس گئی۔ زندگی میں یہ پہلا موقع تھا کہ وہ مغموم و ملول نظر آرہی تھی۔۔۔ دونوں ...

    مزید پڑھیے

    قیدی کی سرگزشت

    بدنصیب قیدی جیل خانےکی تنگ و تاریک کوٹھڑی میں سرجھکائے بیٹھا تھا۔ چند گھنٹے پیشتر وہ آزادتھا۔ دنیا کی تمام راحتیں اسے حاصل تھیں۔ اس کا ہر مقصد تکمیل کی مسرت سےہمکنار تھا۔ اور ہر ایک آزاد کامیابی کی نشاط انگیزیو ں کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے، زندگی کے روشن و مصفّا راستے پر رواں ...

    مزید پڑھیے

    گونگی محبت

    وہ دونوں جوان تھیں اور ظاہر ہے کہ جوانی کی بہار آفرینی ہر نسوانی پیکر کے خدوخال میں ایک خاص شگفتگی اور ایک خاص دلآویزی پیدا کردیتی ہے۔۔۔ چنانچہ وہ دونوں حسین بھی تھیں۔ دونوں کے قد بھی قریباً قریباً یکساں تھے۔ دونوں کی عمروں میں بھی کوئی خاص فرق نہ تھا۔ ایک کی عمر سولہ سال کے ...

    مزید پڑھیے

    فاصلے

    رحمت خاں خاصا طویل تھا۔ دور دور تک پرانے مکانوں کی دو رویہ قطاریں پھیلی ہوئی تھیں، آخر میں جہاں آنے جانے والوں کے لیے راستہ بند کرنے کی خاطر ایک دیوار کھڑی کی گئی تھی۔ آمنے سامنے پانچ دکانیں اس کوچے میں رہنے والوں کی ضرورتیں پوری کر رہی تھیں۔ ان دکانوں سے کچھ دور، دیوار کے ساتھ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2