Miir Sher Ali Afsos

میر شیر علی افسوس

  • 1732 - 1809

میر شیر علی افسوس کی غزل

    سامنے سے جو وہ نگار گیا

    سامنے سے جو وہ نگار گیا دل پہ تیر نگاہ مار گیا دیکھو بیتابی دل کی اس در پر ایک دن میں ہزار بار گیا منزل عشق تک نہ پہنچا آہ میں تو چلتے ہی چلتے ہار گیا تیرے قربان کے تو لائق ہوں اور کاموں سے گو میں ہار گیا پاس سے اس کے سب گئے خورسند ایک افسوسؔ سوگوار گیا

    مزید پڑھیے

    مت بیٹھ وقت نزع تو یاں اے حسیں بہت

    مت بیٹھ وقت نزع تو یاں اے حسیں بہت الفت نہ کر تو آہ دم واپسیں بہت یہ سچ کرے ہے ناز ہر اک نازنیں بہت عاشق کشی کا چاؤ پہ دیکھا یہیں بہت ہوتی ہے اس کے دیکھتے حالت مری تغیر ہر چند میں سنبھالوں ہوں اپنے تئیں بہت یہ کون جانے جھوٹ ہے یا سچ ولیک آج اس کم سخن نے پیار کی باتیں تو کیں ...

    مزید پڑھیے

    سمند گرم جو یاں اس سوار کا پہنچا

    سمند گرم جو یاں اس سوار کا پہنچا غبار تا فلک اس خاکسار کا پہنچا تو سچ بتا کہ تجھے اتنی کیوں ہے بے چینی مگر پیام کسی بے قرار کا پہنچا ملے ہے پاؤں سے اپنے وہ لالہ رو ہر دم یہ مرتبہ تو دل داغدار کا پہنچا ہے یاں تلک تو نزاکت گلوں کے گجرے سے لچکنے لگتا ہے اس گل غدار کا پہنچا قفس سے ...

    مزید پڑھیے

    نہ ساقی ہے نہ مینا ہے نہ بر میں یار جانی ہے

    نہ ساقی ہے نہ مینا ہے نہ بر میں یار جانی ہے حقیقت میں نہیں جیتے بہ صورت زندگانی ہے نوازش پر مزاج آیا جہاں دیں گالیاں لاکھوں کرم ہے آپ کا طرفہ عجائب مہربانی ہے سنو ٹک گوش دل سے قصۂ جاں سوز کو میرے کہ جگ بیتی نہیں ہے آپ بیتی یہ کہانی ہے عبث ہے سوچ تجھ کو نامہ بر دے شوق سے مجھ ...

    مزید پڑھیے

    گل بھی خوش طلعت ہے پر اے ماہ تو کچھ اور ہے

    گل بھی خوش طلعت ہے پر اے ماہ تو کچھ اور ہے باس اس میں اور کچھ ہے تجھ میں بو کچھ اور ہے کہنے سننے کا نہیں یہ وقت جا واعظ کہیں عالم مستی میں اپنی گفتگو کچھ اور ہے حور و غلماں کی ہوس کافر ہو جس کو ٹک بھی ہو عاشقوں کے دل کی زاہد آرزو کچھ اور ہے ٹوکتا تو میں نہیں پر ان دنوں نام خدا خوب ...

    مزید پڑھیے