شام الم سے پہلے بھی صبح طرب کے بعد بھی
شام الم سے پہلے بھی صبح طرب کے بعد بھی شوق طلب نہ مٹ سکا ترک طلب کے بعد بھی پھر یہ وہی غم فراق پھر ہے وہی کسی کی یاد اف یہ سیاہ بختوں رخصت شب کے بعد بھی فرض تھا احترام دوست تک مگر نہ رک سکے بات لبوں تک آ گئی پاس ادب کے بعد بھی سارا غرور عاشقی خاک میں مل کے رہ گیا ہو گیا ان کا سامنا ...