محشر آفریدی کی غزل

    مرض کے واسطے اتنی دوا زیادہ ہے

    مرض کے واسطے اتنی دوا زیادہ ہے مرے سوال سے تیری عطا زیادہ ہے تمہاری صبح میں ایک رنگ ہے ندامت کا مجھے بھی رات سے خوف خدا زیادہ ہے مری وفاؤں کی اجرت تمہاری جان میں ہے مرے حساب سے یہ خوں بہا زیادہ ہے شراب عشق ہے دونوں کے جام میں لیکن مری شراب میں خون وفا زیادہ ہے نہ جانے ڈھل گیا ...

    مزید پڑھیے

    جو چند لمحوں میں بن گیا تھا وہ سلسلہ ختم ہو گیا ہے

    جو چند لمحوں میں بن گیا تھا وہ سلسلہ ختم ہو گیا ہے یہ تم نے کیسا یقیں دلایا مغالطہ ختم ہو گیا ہے زبان ہونٹوں پہ جا کے پھیکی ہی لوٹ آتی ہے کچھ دنوں سے نمک نہیں ہے ترے لبوں میں یا ذائقہ ختم ہو گیا ہے گمان گاؤں سے میں چلا تھا یقین کی منزلوں کی جانب مگر توہم کے جنگلوں میں ہی راستہ ختم ...

    مزید پڑھیے

    یہ سوچتا ہوں چراغوں کا اہتمام کروں

    یہ سوچتا ہوں چراغوں کا اہتمام کروں ہوا کو بھوک لگی ہے کچھ انتظام کروں ہر ایک سانس رگڑ کھا رہی ہے سینہ میں اور آپ کہتے ہیں آہوں پہ اور کام کروں ابھی تو دل کی قیادت میں پاؤں نکلے ہیں تلاش عشق رکے تو کہیں قیام کروں خطا معاف مگر اتنا بے ادب بھی نہیں بغیر دل کی اجازت تمہیں سلام ...

    مزید پڑھیے

    انا کا بوجھ کبھی جسم سے اتار کے دیکھ

    انا کا بوجھ کبھی جسم سے اتار کے دیکھ مجھے زباں سے نہیں روح سے پکار کے دیکھ میری زمین پہ چل تیز تیز قدموں سے پھر اس کے بعد تو جلوے مرے غبار کے دیکھ یہ اشک دل پہ گریں تو بہت چمکتا ہے کبھی یہ آئنہ تیزاب سے نکھار کے دیکھ نہ پوچھ مجھ سے ترے قرب کا نشہ کیا ہے تو اپنی آنکھ میں ڈورے مرے ...

    مزید پڑھیے

    ہوا کے چلتے ہی بادل کا صاف ہو جانا

    ہوا کے چلتے ہی بادل کا صاف ہو جانا جو حبس ٹوٹنا بارش خلاف ہو جانا مرے خمیر کی دہقانیت جتاتا ہے یہ تم سے مل کے مرا شین قاف ہو جانا غرور حسن سے کوئی امید مت کرنا خطائیں کرنا تو خود ہی معاف ہو جانا میں تیز دھوپ میں جل کر بھی یاد کرتا ہوں وہ سرد رات میں اس کا لحاف ہو جانا مجھ ایسے ...

    مزید پڑھیے

    نشے کی آگ میں دیکھا گلاب یعنی تو

    نشے کی آگ میں دیکھا گلاب یعنی تو بدن کے جام میں دیسی شراب یعنی تو ہمارے لمس نے سب تار کس دئے اس کے وہ جھنجھنانے کو بیکل رباب یعنی تو ہر ایک چہرہ نظر سے چکھا ہوا دیکھا ہر اک نظر سے اچھوتا شباب یعنی تو سفید قلمیں ہوئیں تو سیہ زلف ملی اب ایسی عمر میں یہ انقلاب یعنی تو مے خود ہی ...

    مزید پڑھیے

    تیرے خاموش تکلم کا سہارا ہو جاؤں

    تیرے خاموش تکلم کا سہارا ہو جاؤں تیرا انداز بدل دوں ترا لہجہ ہو جاؤں تو مرے لمس کی تاثیر سے واقف ہی نہیں تجھ کو چھو لوں تو ترے جسم کا حصہ ہو جاؤں تیرے ہونٹوں کے لیے ہونٹ میرے آب حیات اور کوئی جو چھوئے زہر کا پیالہ ہو جاؤں کر دیا تیرے تغافل نے ادھورا مجھ کو ایک ہچکی اگر آ جائے ...

    مزید پڑھیے

    تیرے ہونٹھوں کے تبسم کا طلب گار ہوں میں

    تیرے ہونٹھوں کے تبسم کا طلب گار ہوں میں اپنے غم بیچ دے ردی کا خریدار ہوں میں میری حالت پہ تکبر نہیں افسوس بھی کر تیرا عاشق نہیں جاناں ترا بیمار ہوں میں کل تری ہوش ربائی سے ہوا تھا آزاد آج پھر اک نئے جادو میں گرفتار ہوں میں ان دنوں یوں کہ ترا عشق گراں ہے مجھ پر بے دلی ایسی کے ...

    مزید پڑھیے

    لب ساحل سمندر کی فراوانی سے مر جاؤں

    لب ساحل سمندر کی فراوانی سے مر جاؤں مجھے وہ پیاس ہے شاید کہ میں پانی سے مر جاؤں تم اس کو دیکھ کر چھو کر بھی زندہ لوٹ آئے ہو میں اس کو خواب میں دیکھوں تو حیرانی سے مر جاؤں میں اتنا سخت جاں ہوں دم بڑی مشکل سے نکلے گا ذرا تکلیف بڑھ جائے تو آسانی سے مر جاؤں غنیمت ہے پرندے میری تنہائی ...

    مزید پڑھیے