Mehdi Jafar

مہدی جعفر

  • 1938

مہدی جعفر کے تمام مواد

7 غزل (Ghazal)

    دنیا کا ہے اجالا پتھر

    دنیا کا ہے اجالا پتھر یزداں تیرا کالا پتھر چوٹی تک جس نے پہنچایا اس کو دیکھ سنبھالا پتھر منہ تک اب لے جانا کٹھن ہے بن جاتا ہے نوالا پتھر تتلی آن کے اس پر بیٹھے پھول بنے ہے سالا پتھر کچھ تو تھا مجھ میں جب اس نے میری سمت اچھالا پتھر لعل و گہر بازار کو دے دے گھر کے لیے بچا لا ...

    مزید پڑھیے

    خشک دراروں والا دریا

    خشک دراروں والا دریا زیر زمیں ہے بالا دریا اس کو بڑا راس آیا دریا میں اور دیس نکالا دریا لہروں کی تحریر کنارے ریت پہ لکھا قصہ دریا آؤ یہ افواہ اڑائیں ہم نے خواب میں دیکھا دریا تہ میں عکساں نقش و مناظر اوپر شہر کے بہتا دریا آج بھی تیرے شہر ہیں پیاسے اب بھی دور ہے خیمہ دریا پل ...

    مزید پڑھیے

    سنکھ مندر بجاتا رہا

    سنکھ مندر بجاتا رہا دیپ جنگل جگاتا رہا انگلیاں جب شعاعیں بنیں پھر نہ سورج سے ناتا رہا تھا سمندر مرے سامنے میں لکیریں بناتا رہا سیپیاں کوکھ کی ہستیاں ہار موتی دکھاتا رہا کھا کے کشتی کی لکڑی مری بھوک طوفاں مٹاتا رہا پشت در پشت تھا دور جب کیوں کھنڈر پاس آتا رہا

    مزید پڑھیے

    دستک دے زنجیر کی صورت آ

    دستک دے زنجیر کی صورت آ دست نوا تحریر کی صورت آ ملنا کیا ہے بیٹھ کنارے ہو کچھ تو بنے تعمیر کی صورت آ طرز کشیدہ کیوں یہ ترا مجھ سے طور جراحت تیر کی صورت آ معنی لفظ کی لوح کو نگلے جب مثل کن تعبیر کی صورت آ خشک آنکھوں کو دید سے خیرہ کر خواب ابھر شمشیر کی صورت آ

    مزید پڑھیے

    بے مکاں تاریک دھڑکن گن گیا

    بے مکاں تاریک دھڑکن گن گیا چیختا چنگھاڑتا انجن گیا! رو رہا تھا شام کو سورج لہو چلنے والا تھک گیا لیکن گیا قطرہ قطرہ رات سوکھی دشت میں ریزہ ریزہ پتھروں سے دن گیا شہر میں پتوں نے دستک چھیڑ دی اے ہوا کیا جنگلوں کا سن گیا راستوں کا جال پھیلا رہ گیا اک بگولا سا اٹھا اور جن گیا بعد ...

    مزید پڑھیے

تمام