دنیا کا ہے اجالا پتھر
دنیا کا ہے اجالا پتھر یزداں تیرا کالا پتھر چوٹی تک جس نے پہنچایا اس کو دیکھ سنبھالا پتھر منہ تک اب لے جانا کٹھن ہے بن جاتا ہے نوالا پتھر تتلی آن کے اس پر بیٹھے پھول بنے ہے سالا پتھر کچھ تو تھا مجھ میں جب اس نے میری سمت اچھالا پتھر لعل و گہر بازار کو دے دے گھر کے لیے بچا لا ...