میگی آسنانی کی غزل

    ڈھیر ساری خوشی وہ لاتا ہے

    ڈھیر ساری خوشی وہ لاتا ہے میرے دامن میں بھر کے جاتا ہے چاند خوشبو ہوا ستارے گل کھل اٹھے جب وہ گنگناتا ہے کون سا یار کیوں پریشان ہے ایک پل میں وہ جان جاتا ہے ذرہ ذرہ چمکنے لگتا ہے اک نظر وہ نظر جو آتا ہے اس کی آنکھوں میں پوری دنیا ہے جو بھی بھولا ہو راہ پاتا ہے ہر اداسی کا قتل ...

    مزید پڑھیے

    اپنی فطرت یہ نہیں جو سہہ گئی

    اپنی فطرت یہ نہیں جو سہہ گئی بات جو کہنی تھی میں وہ کہہ گئی جسم و جاں سے مٹ گئی ہر آرزو اک تری امید تہ بہ تہ گئی کاش آ سکتی ہوا کے ساتھ میں آ چکی گھر جب یہاں سے وہ گئی لاکھ لفظوں نے دیا ہو ساتھ پر آرزو دل کی تھی دل میں رہ گئی چاند کھڑکی میں نہ آیا آج پھر آنکھ میں اک جھیل تھی وہ ...

    مزید پڑھیے

    پاس ہو کر سراب لگتا ہے

    پاس ہو کر سراب لگتا ہے ساتھ ہے اور خواب لگتا ہے غیر کی بات جھٹ سے مانے گا میرا کہنا خراب لگتا ہے اس کے گھر ہے عجیب سی خوشبو اور خود بھی گلاب لگتا ہے مجھ کو ہی دے گیا اندھیرا کیوں سب کو وہ ماہتاب لگتا ہے وہ جو خوش خوش دکھائی دینے لگا میرے غم کا جواب لگتا ہے

    مزید پڑھیے

    کبھی ہم بت کبھی نور صنم کو دیکھ لیتے ہیں

    کبھی ہم بت کبھی نور صنم کو دیکھ لیتے ہیں عقیدہ سے بڑی دیر و حرم کو دیکھ لیتے ہیں کبھی روتے ہوئے مجھ کو نظر انداز کرتے ہیں کبھی آنکھوں میں وہ ہلکی سی نم کو دیکھ لیتے ہیں کبھی اس مسکراہٹ میں کبھی اس بے رخی میں ہم ستم کو دیکھ لیتے ہے کرم کو دیکھ لیتے ہیں ہمیں اس واسطے بھی آئینے پر ...

    مزید پڑھیے

    سارے جگ سے روٹھ جانا چاہتی ہوں

    سارے جگ سے روٹھ جانا چاہتی ہوں ہاں مگر تم کو منانا چاہتی ہوں اک خوشی گر تو جو مجھ کو دے سکے تو سارے غم کو بھول جانا چاہتی ہوں ہاں وطن کو چھوڑا برسو ہو چکے ہیں اب میں لیکن لوٹ آنا چاہتی ہوں ابتدا تو ہی ہے میری انتہا بھی میں فقط اتنا بتانا چاہتی ہوں اینٹ پتھر سے مکاں بنتے ہے سب ...

    مزید پڑھیے