اب کیا ملیں حسینوں سے ہم گوشہ گیر ہیں
اب کیا ملیں حسینوں سے ہم گوشہ گیر ہیں غارت گروں نے لوٹ لیا ہے فقیر ہیں خالق بچائے زہرہ جبینوں کی چاہ سے سنتے ہیں دو فرشتے ابھی تک اسیر ہیں چار آنکھیں ہم نے کی تو ہیں غصہ نہ کیجیے سائل نہیں فقیر نہیں راہگیر ہیں در پر تمہارے بیٹھے ہیں سر پر ہے آفتاب ہم خاکسار مالک تاج و سریر ...