Meer Soz

میر سوز

میر سوز کے تمام مواد

17 غزل (Ghazal)

    یہ تیرا عشق کب کا آشنا تھا

    یہ تیرا عشق کب کا آشنا تھا کہاں کا جان کو میری دھرا تھا وہ ساعت کون سی تھی یا الٰہی کہ جس ساعت دو چار اس سے ہوا تھا میں کاش اس وقت آنکھیں موند لیتا کہ میرا دیکھنا مجھ پر بلا تھا میں اپنے ہاتھ اپنے دل کو کھویا خداوندا میں کیوں عاشق ہوا تھا نہ تھا اس وقت جز اللہ کوئی ولے یہ سوزؔ ...

    مزید پڑھیے

    غمزۂ چشم شرمسار کہاں

    غمزۂ چشم شرمسار کہاں سر تو حاضر ہے تیغ یار کہاں گل بھی کرتا ہے چاک اپنا جیب پر گریباں سا تار تار کہاں ہو غزالوں کو اس سے ہم چشمی تیکھی چتون کہاں خمار کہاں عندلیبوں نے گل کو گھیر لیا ایک جیوڑا کہاں ہزار کہاں ایک دن ایک شخص نے پوچھا میر صاحب تمہارا یار کہاں میں نے اس سے کہا کہ ...

    مزید پڑھیے

    ہمیں کون پوچھے ہے صاحبو نہ سوال میں نہ جواب میں

    ہمیں کون پوچھے ہے صاحبو نہ سوال میں نہ جواب میں نہ تو کوئی آدمی جانے ہے نہ حساب میں نہ کتاب میں نہ تو علم اپنے میں ہے یہاں کہ خدا نے بھیجا ہے کس لیے اسی کو جو کہتے ہیں زندگی سو تو جسم کے ہے عذاب میں یہی شکل ہے جسے دیکھو ہو یہی وضع ہے جسے گھورو ہو جسے جان کہتے ہیں آدمی اسے دیکھا ...

    مزید پڑھیے

    تو ہم سے جو ہم شراب ہوگا

    تو ہم سے جو ہم شراب ہوگا بہتوں کا جگر کباب ہوگا ڈھونڈھے گا سحاب چھپنے کو مہر جس روز وہ بے نقاب ہوگا خوباں سے نہ کر محبت اے دل آمان کہاں خراب ہوگا اے مرگ شتاب کہہ تو مجھ سے اس زیست کو کب جواب ہوگا بوسہ دے سوزؔ کو مری جان مطلب تیرا شتاب ہوگا

    مزید پڑھیے

    جو ہم سے تو ملا کرے گا

    جو ہم سے تو ملا کرے گا بندہ تجھ کو دعا کرے گا بوسہ تو دے کبھو مری جان مولا ترا بھلا کرے گا ہم تم بیٹھیں گے پاس مل کر وہ دن بھی کبھو خدا کرے گا دل تیرے کام کا نہیں تو بندہ پھر لے کے کیا کرے گا پچھتائے گا مل کے سوزؔ سے ہاں ہم کہتے ہیں برا کرے گا ہے شوخ مزاج سوزؔ واللہ چھیڑے گا اسے ...

    مزید پڑھیے

تمام