Meer Shamsuddeen Faqeer

میر شمس الدین فقیر

میر شمس الدین فقیر کی غزل

    درد مندوں سے نہ پوچھو کہ کدھر بیٹھ گئے

    درد مندوں سے نہ پوچھو کہ کدھر بیٹھ گئے تیری مجلس میں غنیمت ہے جدھر بیٹھ گئے ہے غرض دید سے یاں کام تکلف سے نہیں خواہ ادھر بیٹھ گئے خواہ ادھر بیٹھ گئے دیکھا ہووے گا مرے اشک کا طوفاں تم نے لاکھ دیوار گرے سینکڑوں گھر بیٹھ گئے کس نظر ناز نے اس باز کو بخشی پرواز سینکڑوں مرغ ہوا پھاند ...

    مزید پڑھیے