Meer Muzaffar Husain Zameer

میر مظفر حسین ضمیر

میر مظفر حسین ضمیر کی غزل

    سب شکایت ہے زندگانی کی

    سب شکایت ہے زندگانی کی جان نے دشمنیٔ جانی کی ہم سبک دوش ہی جہاں سے گئے نہ کسی طبع نے گرانی کی ہاں سبک سار کر دے اے قاتل جسم پر سر نے سرگرانی کی روح تن پر وبال دوش ہوئی ہے یہ افراط ناتوانی کی عشق برباد کر گیا آخر تھی خبر کس کو ناگہانی کی ایسی اک تیغ آب دار لگا پھر نہ مانگوں جو ...

    مزید پڑھیے

    حالت مری جب اس کو دگر گوں نظر آئی

    حالت مری جب اس کو دگر گوں نظر آئی اوروں کی تو کیا چشم مسیحا کی بھر آئی کاہیدہ کیا آہ جنوں نے مجھے یاں تک زنجیر مرے پاؤں کی آخر اتر آئی کس وقت پھنسی تھی کہ رہا ہو کے چمن تک اے وائے نہ پھر بلبل بے بال و پر آئی

    مزید پڑھیے

    باغ میں آمد بہار ہے آج

    باغ میں آمد بہار ہے آج چشم نرگس کو انتظار ہے آج پا بہ زنجیر موج ایسے کہوں باغ میں سرو جوۓ بار ہے آج آئے گا کیا کوئی صنوبر قد قمریوں کا مگر شکار ہے آج نگہت گل ہوئی ہے مژدہ رساں باد کے گھوڑے پر سوار ہے آج وصف کس کا کیا تھا بلبل نے گل جو اس کے گلے کا ہار ہے آج سنگ برسر زناں یہ کس کے ...

    مزید پڑھیے

    جب کہ فرقت میں موت آتی ہے

    جب کہ فرقت میں موت آتی ہے حسرت وصل ساتھ جاتی ہے کیوں صبا قبر بے کساں پہ کبھی نہیں دو پھول بھی چڑھاتی ہے بھول جاتی ہے قبر کی ظلمت یاد زلف سیہ جو آتی ہے جو ترا غم ہمیشہ کھاتا تھا اب اسے خاک گور کھاتی ہے کون اس خاک پر خراماں ہے روح پھولے نہیں سماتی ہے یہاں نقشہ بگڑ گیا اپنا وہ پری ...

    مزید پڑھیے

    ہم رہے یاں تلک ترے غم میں

    ہم رہے یاں تلک ترے غم میں کہ ترا غم سما گیا ہم میں کیوں نہ ہو عشق حسن گندم گوں میں بھی آخر ہوں نسل آدم میں ہے عرق میں بھی اس کے نکہت عطر گل کی بو آ گئی ہے شبنم میں میرے اشکوں کے روبرو دریا ہے بڑا فرق قطرہ و یم میں جیسا جام جہاں نما ہے دل سیر وہ کب ہے ساغر جم میں دل کا ناسور دل کے ...

    مزید پڑھیے

    جب تک کہ تو جلوہ گر نہ ہووے

    جب تک کہ تو جلوہ گر نہ ہووے میری شب غم سحر نہ ہووے افسوس کہ جس سے ہم گزر جائیں اور تیرا ادھر گزر نہ ہووے عاشق ترا اپنی جان کھو دے پر حیف تجھے خبر نہ ہووے مر جائیں ہم آہ کرتے کرتے اور دل میں ترے اثر نہ ہووے صد حیف ضمیرؔ ہم تو روئیں اس کی کبھی چشم تر نہ ہووے

    مزید پڑھیے

    صدمے سے شب ہجر کے کب جان بر آئی

    صدمے سے شب ہجر کے کب جان بر آئی یہ شام نہیں آئی قضا ہی مگر آئی دیکھا مرا بستر جو کل اس شوخ نے خالی ہر چند کیا ضبط مگر آنکھ بھر آئی کرتا ہے کئی دن سے مرے قتل کی تدبیر صد شکر کہ اس بت کی طبیعت ادھر آئی آتے ہی ترے آ گئی اک جان سی تن میں اے نگہت گیسوئے معنبر کدھر آئی تصویر خیالی کی ...

    مزید پڑھیے

    بستر نرم پر وہ سوتا ہے

    بستر نرم پر وہ سوتا ہے یاں پس خیمہ کوئی روتا ہے دھیان مژگان آب دار کا آہ دل میں اک نیشتر چبھوتا ہے وصل اس کا نہ پائے گا اے دل کیوں عبث اپنی جان کھوتا ہے قطرۂ اشک کا اثر دیکھو کہ کدورت دلوں کی دھوتا ہے جسے کہتے ہیں یاں سمندر سب میرے اشکوں کا ایک سوتا ہے تو تو غرق محیط عشق ...

    مزید پڑھیے

    چشم کو شوق اشک باری ہے

    چشم کو شوق اشک باری ہے چشمۂ فیض ہے کہ جاری ہے سوزن عیسوی سے کیا ہوگا زخم اپنے جگر کا کاری ہے ہم کہیں اور تم کہیں صاحب خاک یہ زندگی ہماری ہے رکھ کے سر اس قدم پہ مر جاتا بس یہی طرز جاں نثاری ہے کس کا سونا کسے ہے آتی نیند شب ہجراں ہے اور اشک باری ہے یہ جو اڑتی ہے تیرے کوچہ ...

    مزید پڑھیے