سب شکایت ہے زندگانی کی
سب شکایت ہے زندگانی کی جان نے دشمنیٔ جانی کی ہم سبک دوش ہی جہاں سے گئے نہ کسی طبع نے گرانی کی ہاں سبک سار کر دے اے قاتل جسم پر سر نے سرگرانی کی روح تن پر وبال دوش ہوئی ہے یہ افراط ناتوانی کی عشق برباد کر گیا آخر تھی خبر کس کو ناگہانی کی ایسی اک تیغ آب دار لگا پھر نہ مانگوں جو ...