Meer Khaleeq

میر خلیق

میر خلیق کی غزل

    غفلت میں فرق اپنی تجھ بن کبھو نہ آیا

    غفلت میں فرق اپنی تجھ بن کبھو نہ آیا ہم آپ کے نہ آئے جب تک کہ تو نہ آیا ساقی نے جام مے تو شب پے بہ پے دیا پر نیت بھری نہ اپنی جب تک سبو نہ آیا کوتاہ ہے نہایت دست دعا ہمارا دامن اثر کا جا کر اک بار چھو نہ آیا عاشق کو تیرے کل سے تھی جاں کنی کی حالت سب دیکھنے کو آئے اللہ تو نہ ...

    مزید پڑھیے

    نزع میں گر مری بالیں پہ تو آیا ہوتا

    نزع میں گر مری بالیں پہ تو آیا ہوتا اس طرح اشک میں آنکھوں میں نہ لایا ہوتا میرے خورشید نہ ہوتا یہ مرا روز سیاہ تو نے گر زلف میں مکھڑا نہ چھپایا ہوتا باغ جنت میں بھی کیا خوب گزرتی میری واں بھی سر پر جو تری زلف کا سایا ہوتا ناصحا چاک گریباں کے سلانے سے حصول چاک آنکھوں کا مری تو نے ...

    مزید پڑھیے