Meer Ahmad Naved

میر احمد نوید

میر احمد نوید کے تمام مواد

11 غزل (Ghazal)

    پیش زمیں رہوں کہ پس آسماں رہوں

    پیش زمیں رہوں کہ پس آسماں رہوں رہتا ہوں اپنے ساتھ میں چاہے جہاں رہوں کیسا جہاں کہاں کا مکاں کون لا مکاں یعنی اگر کہیں نہ رہوں تو کہاں رہوں اے عشق میرا ہونا نہ ہونا ہے مجھ تلک اب میں نشان کھینچوں کہ میں بے نشاں رہوں کیا ڈھونڈھتا رہوں میں یوں ہی دہر میں ثبات کیا مرگ ناگہاں کے لیے ...

    مزید پڑھیے

    ہے اور نہیں کا آئینہ مجھ کو تھما دیا گیا

    ہے اور نہیں کا آئینہ مجھ کو تھما دیا گیا یعنی مرے وجود کو کھیل بنا دیا گیا میرا سوال تھا کہ میں کون ہوں اور جواب میں مجھ کو ہنسا دیا گیا مجھ کو رلا دیا گیا میرے جنوں کو تھی بہت خواہش سیر و جستجو مجھ کو مجھی سے باندھ کر مجھ میں بٹھا دیا گیا میں نے کہا کہ زندگی درد دیا گیا مجھے میں ...

    مزید پڑھیے

    سادہ ہے گرچہ لوح بصارت بحال رکھ

    سادہ ہے گرچہ لوح بصارت بحال رکھ شور قلم بہت ہے سماعت بحال رکھ زخم تلاش میں ہے نہاں مرہم دلیل تو اپنا دل نہ ہار محبت بحال رکھ نظارہ بے نظارہ ہوا ہے تو کیا ہوا حیرت کی تاب دید کی حسرت بحال رکھ بس میں تو خیر کچھ بھی نہیں ہے ترے مگر بچنا ہے یاسیت سے تو وحشت بحال رکھ مستی و ہوش و جذب ...

    مزید پڑھیے

    یہ عمر صد بلا جو اپنے ہی سر گئی ہے

    یہ عمر صد بلا جو اپنے ہی سر گئی ہے تھوڑی گزار لیں گے تھوڑا گزر گئی ہے یا موند لیں ہیں آنکھیں یا مند گئیں ہیں آنکھیں تجھ پر پس تماشا کیا کیا گزر گئی ہے ممکن نہیں ہے شاید دونوں کا ساتھ رہنا تیری خبر جب آئی اپنی خبر گئی ہے شور خزاں ہے گھر میں دیوار و بام و در میں در پر سواری کل آ کر ...

    مزید پڑھیے

    اٹھا کے در سے سر رہ بٹھا دیا ہے مجھے

    اٹھا کے در سے سر رہ بٹھا دیا ہے مجھے مرے سوال سے پاگل بنا دیا ہے مجھے کچھ اس طرح سے کہا مجھ سے بیٹھنے کے لیے کہ جیسے بزم سے اس نے اٹھا دیا ہے مجھے نہ خود ہی چین سے بیٹھے نہ مجھ کو بیٹھنے دے مرے خدا نے ستارہ بھی کیا دیا ہے مجھے مری سمائی نہ صحرا میں ہے نہ گھر میں ہے نیا یہ مژدۂ وحشت ...

    مزید پڑھیے

تمام