مظہر عباس کی غزل

    شعر اچھا ہو تو پھر داد ملا کرتی ہے

    شعر اچھا ہو تو پھر داد ملا کرتی ہے کہیں آواز کتابوں میں چھپا کرتی ہے ایک لمحہ بھی فرشتہ نہیں ہونے دیتی کوئی تو شے ہے جو باطن میں خطا کرتی ہے چین سے مجھ کو ترا حسن نہ جینے دے گا دل کی بستی ہے کہ ہر روز لٹا کرتی ہے پیاس کیسی تھی بہتر کی تمہیں کیا معلوم کیوں فرات آج بھی رو رو کے بہا ...

    مزید پڑھیے

    بے حسی کی بھیڑ میں وہ کھو گیا

    بے حسی کی بھیڑ میں وہ کھو گیا خوف تھا جس کا وہی کل ہو گیا ہر قدم پر پاؤں کیوں زخمی ہوئے راہ حق میں کون کانٹے بو گیا رات بھر تو چاند جاگا میرے ساتھ پھر سحر کے وقت تھک کر سو گیا ماں نے بس پانی ابالا رات بھر روتے روتے اس کا بچہ سو گیا وہ کہیں کا بھی نہ مظہرؔ ہو سکا ہاتھ کو مجھ سے ...

    مزید پڑھیے

    خوب تم تحفۂ عاشقی دے گئے

    خوب تم تحفۂ عاشقی دے گئے آنکھوں میں عمر بھر کی نمی دے گئے دھوپ میں دے کے سایہ یہ بوڑھے شجر کتنے پیڑوں کو شاخیں ہری دے گئے حادثے زندگی میں کچھ ایسے ہوئے دشمنوں سے جو وابستگی دے گئے ان کے جلووں کی ہے بات ہی کچھ الگ عشق کو میرے شائستگی دے گئے آنکھ ادب زلف تہذیب عارض سخن اور ترے ...

    مزید پڑھیے

    در بدر جاؤں یہ کہاں ممکن

    در بدر جاؤں یہ کہاں ممکن میں بکھر جاؤں یہ کہاں ممکن مجھ سے ہوگی یزید کی بیعت مرتا مر جاؤں یہ کہاں ممکن عشق میں بے وفائی کا الزام تجھ پہ دھر جاؤں یہ کہاں ممکن آج ان سے ہے وصل کا وعدہ آج مر جاؤں یہ کہاں ممکن سب جدھر جا رہے ہوں اے مظہرؔ میں ادھر جاؤں یہ کہاں ممکن

    مزید پڑھیے

    یاد جو تجھ کو کر رہے ہیں ہم

    یاد جو تجھ کو کر رہے ہیں ہم کیا حقیقت میں مر رہے ہیں ہم تیری فرقت میں وقت کی صورت رفتہ رفتہ گزر رہے ہیں ہم کل مری روح نے کہا مجھ سے جسم سے کہہ دو مر رہے ہیں ہم آج تیرے رخ منور سے نور آنکھوں میں بھر رہے ہیں ہم جیسے جیسے وہ طنز کرتے ہیں ویسے ویسے نکھر رہے ہیں ہم یاد اس کی نہ آئے ...

    مزید پڑھیے

    زندگی پر وقار چاہتا ہوں

    زندگی پر وقار چاہتا ہوں تجھ پہ بس اختیار چاہتا ہوں لب پہ اظہار آج آ ہی گیا میں تجھے بے شمار چاہتا ہوں آ بھی جا تو کہ دل کے گلشن میں پھول خوشبو بہار چاہتا ہوں رہ میں تیری بچھا کے میں پلکیں لذت انتظار چاہتا ہوں پشت پر میری ہیں بہت خنجر اب تو سینے پہ وار چاہتا ہوں جس نظر میں ...

    مزید پڑھیے

    زندگی کی سخت راہوں سے گزر جانے کے بعد

    زندگی کی سخت راہوں سے گزر جانے کے بعد چند آنکھیں رو رہی ہیں میرے مر جانے کے بعد بس یہی تو سوچ کے میں ٹوٹ کر بکھرا نہیں کیوں سمیٹے گا مجھے کوئی بکھر جانے کے بعد محو حیرت ہیں ملک جب الجھی زلفیں دیکھ کر ڈھائے گی اب تو قیامت بن سنور جانے کے بعد پستیاں تیرا مقدر بن گئی ہیں آج کل یہ ...

    مزید پڑھیے

    صرف اتنا قصوروار ہوں میں

    صرف اتنا قصوروار ہوں میں چاہتا تجھ کو بے شمار ہوں میں جو محبت تھی وہ ادا کر دی تیری نفرت کا قرض دار ہوں میں کچھ خطا ہے مری نہ کوئی گناہ تنگ نظری کا بس شکار ہوں میں حادثے میرا کیا بگاڑیں گے ماں کی آنکھوں کا انتظار ہوں میں منزلیں روح طے کرے گی خود کشتیٔ جسم پر سوار ہوں میں

    مزید پڑھیے

    تیرا چہرہ جو میرے دل میں اتر آیا ہے

    تیرا چہرہ جو میرے دل میں اتر آیا ہے ہر بشر سنگ لیے مجھ کو نظر آیا ہے کتنی مغرور تھی یہ رات ابھی تک لیکن ایک ننھا سا دیا لے کے سحر آیا ہے جس کو پالا تھا محبت سے ہمیشہ میں نے آستینوں میں وہ چھپ کر میرے گھر آیا ہے بد دعائیں تو غریبوں کی نہیں ہیں تجھ پر تو جو شہرت کی بلندی سے اتر آیا ...

    مزید پڑھیے