Mateen Sarosh

متین سروش

متین سروش کی غزل

    زندگی کے ساز پر جلتے ہوئے نغمات ہیں

    زندگی کے ساز پر جلتے ہوئے نغمات ہیں رقص فرما شعلۂ دل کی طرح ذرات ہیں ہیں بگولوں کی طرح تار نفس بہکے ہوئے زندگانی کی جنوں پرور سبھی آیات ہیں ناز فرما جن کی تابانی پہ تھی عقل بشر آج وہ خورشید و انجم کتنے کم اوقات ہیں ہم کہ تھے دل داریٔ موج حوادث پر نثار شور طوفاں سے عیادت دل نشیں ...

    مزید پڑھیے

    آوارگان صحرا کوئے صنم نہ ڈھونڈیں

    آوارگان صحرا کوئے صنم نہ ڈھونڈیں جلووں کی وہ بہاریں زلفوں کے خم نہ ڈھونڈیں اے شہر سنگ تجھ میں زخموں کی کیا کمی ہے تیغ‌ ادائے جلوہ بہتر ہے ہم نہ ڈھونڈیں وہ آبروئے‌ وحشت لائیں تو اب کہاں سے وہ جنت تمنا وہ دشت غم نہ ڈھونڈیں حاصل نہ ہوگا کچھ بھی جز داغ‌ و درد عبرت اہل وفا ہمارا ...

    مزید پڑھیے

    حسن‌ فروغ شب ہے زخم جگر ہمارا

    حسن‌ فروغ شب ہے زخم جگر ہمارا ہر چند منتظر ہے بام سحر ہمارا احباب کو مبارک یہ شوق تیرگی کا ہے ذوق روشنی کا زاد سفر ہمارا کیوں باعث الم ہوں یہ خوں چکاں جبینیں تھا ابتدا سے دشمن وہ سنگ در ہمارا کرتے جو ہم کنارا اس دانش‌ و ہنر سے عشرت گروں میں ہوتا شاید گزر ہمارا پروردۂ ہوس جو ...

    مزید پڑھیے