زندگی کے ساز پر جلتے ہوئے نغمات ہیں
زندگی کے ساز پر جلتے ہوئے نغمات ہیں رقص فرما شعلۂ دل کی طرح ذرات ہیں ہیں بگولوں کی طرح تار نفس بہکے ہوئے زندگانی کی جنوں پرور سبھی آیات ہیں ناز فرما جن کی تابانی پہ تھی عقل بشر آج وہ خورشید و انجم کتنے کم اوقات ہیں ہم کہ تھے دل داریٔ موج حوادث پر نثار شور طوفاں سے عیادت دل نشیں ...