Masood Hasan

مسعود حسن

مسعود حسن کی غزل

    جل رہی تھی اک دئیے میں رات خیمے سے الگ

    جل رہی تھی اک دئیے میں رات خیمے سے الگ تاپتے تھے دو پرندے ہات خیمے سے الگ مند رہی تھیں نیند سے آنکھیں شکستہ طاق میں پڑھ رہی تھی روشنی تورات خیمے سے الگ اک ٹھٹھرتی رات آتش دان میں بجھتا بدن میں الگ تھا اور میری ذات خیمے سے الگ اگ رہے تھے میرے ہونٹوں سے مقدس حرف و صوت پڑھ رہا تھا ...

    مزید پڑھیے