Masood Ahmad

مسعود احمد

  • 1954

مسعود احمد کی غزل

    اکتایا ہوں اس مفت کے سامان سفر سے

    اکتایا ہوں اس مفت کے سامان سفر سے یہ بوجھ ہی ایسا ہے اترتا نہیں سر سے اک عمر گزاری ہے ترے شہر میں لیکن آنکھیں نہیں کھولیں کبھی ظلمات کے ڈر سے اس بار بچھڑ جانا ہے جیسے کبھی پتے گر جائیں تو ملتے نہیں دوبارہ شجر سے تھک ہار کے رک جائے گی یہ وقت کی گردش جس روز زمیں نکلے گی سورج کے اثر ...

    مزید پڑھیے