Mashkoor Husain Yaad

مشکور حسین یاد

مشکور حسین یاد کی غزل

    یونہی فریب نظر کی طناب ٹوٹتی ہے

    یونہی فریب نظر کی طناب ٹوٹتی ہے قدم بڑھائیے موج سراب ٹوٹتی ہے جہاں چٹکتا ہے غنچہ زمین عالم پر وہیں پہ تشنگئ آفتاب ٹوٹتی ہے نقاب اٹھاؤ تو ہر شے کو پاؤ گے سالم یہ کائنات بطور حجاب ٹوٹتی ہے درون آب سنورتے ہیں صد حریم گہر کنار بحر جو محراب آب ٹوٹتی ہے مکاشفات کے ٹکڑے ہیں ذہن کے ...

    مزید پڑھیے

    عمر گزری سفر کے پہلو میں

    عمر گزری سفر کے پہلو میں خوب سے خوب تر کے پہلو میں سانس لیتا ہے ذوق لا محدود خواہش بام و در کے پہلو میں شر کو کیا سمجھے یہ غبی مخلوق شر کہاں ہے بشر کے پہلو میں خوش نہ ہو آنسوؤں کی بارش پر برق ہے چشم تر کے پہلو میں اب ہمیں کیا کوئی سنبھالے گا ہم ہیں سیلاب زر کے پہلو میں فرش پر اس ...

    مزید پڑھیے

    باتوں کے نگر سے آ رہے ہیں

    باتوں کے نگر سے آ رہے ہیں ہم اپنے ہی گھر سے آ رہے ہیں لفظوں کے طلوع کر کے آفاق معنی کے سفر سے آ رہے ہیں خاموشیاں بھر کے تن بدن میں ہم برق و شرر سے آ رہے ہیں تاروں کے یہ جتنے قافلے ہیں امکان سحر سے آ رہے ہیں ان اشکوں کا دل سے کیا تعلق یہ شعلے جگر سے آ رہے ہیں بھیگے ہوئے غم میں سر ...

    مزید پڑھیے

    جب دیدۂ بینا کا حوالہ نہیں ملتا

    جب دیدۂ بینا کا حوالہ نہیں ملتا پھر کوئی بھی دنیا کا حوالہ نہیں ملتا وہ عالم بالا تو ترے دل میں مکیں ہے جس عالم بالا کا حوالہ نہیں ملتا اعلیٰ میں تو ادنیٰ کے حوالے ہی حوالے ادنیٰ ہی میں اعلیٰ کا حوالہ نہیں ملتا جس جان تمنا کے حوالے ہے مری جاں اس جان تمنا کا حوالہ نہیں ملتا یہ ...

    مزید پڑھیے

    زمانہ بے کراں تھا بے کراں ہم نے نہیں رکھا

    زمانہ بے کراں تھا بے کراں ہم نے نہیں رکھا ترے غم سے ورا کوئی جہاں ہم نے نہیں رکھا ہمیشہ سامنے آئے مثال صبح رخشندہ کبھی مدھم اجالوں کا سماں ہم نے نہیں رکھا عطا کی اس ضو سے بزم ہر امکاں کو تابانی کبھی دل کو چراغ نیم جاں ہم نے نہیں رکھا رہے نشے میں لیکن انتہائے خاکساری سے کہ سر پر ...

    مزید پڑھیے

    جس کو دیکھو خواب میں الجھا بیٹھا ہے

    جس کو دیکھو خواب میں الجھا بیٹھا ہے اپنے ہی پایاب میں الجھا بیٹھا ہے آنسو آنسو جس نے دریا پار کئے قطرہ قطرہ آب میں الجھا بیٹھا ہے بھول کے جوہری اپنے لعل و جواہر کو شوق در نایاب میں الجھا بیٹھا ہے وہ جو بگولا بن کر اڑتا پھرتا تھا دھاگا دھاگا سراب میں الجھا بیٹھا ہے نصف نہار پہ ...

    مزید پڑھیے