یونہی فریب نظر کی طناب ٹوٹتی ہے
یونہی فریب نظر کی طناب ٹوٹتی ہے قدم بڑھائیے موج سراب ٹوٹتی ہے جہاں چٹکتا ہے غنچہ زمین عالم پر وہیں پہ تشنگئ آفتاب ٹوٹتی ہے نقاب اٹھاؤ تو ہر شے کو پاؤ گے سالم یہ کائنات بطور حجاب ٹوٹتی ہے درون آب سنورتے ہیں صد حریم گہر کنار بحر جو محراب آب ٹوٹتی ہے مکاشفات کے ٹکڑے ہیں ذہن کے ...