Mashkoor Husain Yaad

مشکور حسین یاد

مشکور حسین یاد کے تمام مواد

6 غزل (Ghazal)

    یونہی فریب نظر کی طناب ٹوٹتی ہے

    یونہی فریب نظر کی طناب ٹوٹتی ہے قدم بڑھائیے موج سراب ٹوٹتی ہے جہاں چٹکتا ہے غنچہ زمین عالم پر وہیں پہ تشنگئ آفتاب ٹوٹتی ہے نقاب اٹھاؤ تو ہر شے کو پاؤ گے سالم یہ کائنات بطور حجاب ٹوٹتی ہے درون آب سنورتے ہیں صد حریم گہر کنار بحر جو محراب آب ٹوٹتی ہے مکاشفات کے ٹکڑے ہیں ذہن کے ...

    مزید پڑھیے

    عمر گزری سفر کے پہلو میں

    عمر گزری سفر کے پہلو میں خوب سے خوب تر کے پہلو میں سانس لیتا ہے ذوق لا محدود خواہش بام و در کے پہلو میں شر کو کیا سمجھے یہ غبی مخلوق شر کہاں ہے بشر کے پہلو میں خوش نہ ہو آنسوؤں کی بارش پر برق ہے چشم تر کے پہلو میں اب ہمیں کیا کوئی سنبھالے گا ہم ہیں سیلاب زر کے پہلو میں فرش پر اس ...

    مزید پڑھیے

    باتوں کے نگر سے آ رہے ہیں

    باتوں کے نگر سے آ رہے ہیں ہم اپنے ہی گھر سے آ رہے ہیں لفظوں کے طلوع کر کے آفاق معنی کے سفر سے آ رہے ہیں خاموشیاں بھر کے تن بدن میں ہم برق و شرر سے آ رہے ہیں تاروں کے یہ جتنے قافلے ہیں امکان سحر سے آ رہے ہیں ان اشکوں کا دل سے کیا تعلق یہ شعلے جگر سے آ رہے ہیں بھیگے ہوئے غم میں سر ...

    مزید پڑھیے

    جب دیدۂ بینا کا حوالہ نہیں ملتا

    جب دیدۂ بینا کا حوالہ نہیں ملتا پھر کوئی بھی دنیا کا حوالہ نہیں ملتا وہ عالم بالا تو ترے دل میں مکیں ہے جس عالم بالا کا حوالہ نہیں ملتا اعلیٰ میں تو ادنیٰ کے حوالے ہی حوالے ادنیٰ ہی میں اعلیٰ کا حوالہ نہیں ملتا جس جان تمنا کے حوالے ہے مری جاں اس جان تمنا کا حوالہ نہیں ملتا یہ ...

    مزید پڑھیے

    زمانہ بے کراں تھا بے کراں ہم نے نہیں رکھا

    زمانہ بے کراں تھا بے کراں ہم نے نہیں رکھا ترے غم سے ورا کوئی جہاں ہم نے نہیں رکھا ہمیشہ سامنے آئے مثال صبح رخشندہ کبھی مدھم اجالوں کا سماں ہم نے نہیں رکھا عطا کی اس ضو سے بزم ہر امکاں کو تابانی کبھی دل کو چراغ نیم جاں ہم نے نہیں رکھا رہے نشے میں لیکن انتہائے خاکساری سے کہ سر پر ...

    مزید پڑھیے

تمام