مریم ناز کی غزل

    تابندہ بہاروں کے نظارے نہیں دیکھے

    تابندہ بہاروں کے نظارے نہیں دیکھے تو نے وہ چمکتے ہوئے تارے نہیں دیکھے کچھ اس لیے بھی نیند ہمیں آتی ہے جلدی آنکھوں نے ابھی خواب تمہارے نہیں دیکھے خود ہاتھ ملایا ہے سمندر میں بھنور سے کشتی نے تلاطم میں سہارے نہیں دیکھے ممکن ہے کسی طور کوئی چارہ بھی ہوتا تو نے ہی کبھی زخم ہمارے ...

    مزید پڑھیے

    حاصل‌ فن ہے بس کلام کی داد

    حاصل‌ فن ہے بس کلام کی داد ورنہ ملتی ہے سب کو نام کی داد کس قدر بے رخی سے ملتا ہے دشمن جاں ترے سلام کی داد جرم غربت پہ جا کے لگتا ہے ویسے بنتی ہے اس نظام کی داد خوب صورت ہے کائنات بہت خالق حسن انتظام کی داد عشق ملتا ہے ہجر کے ہی عوض اے دکاں دار تیرے دام کی داد میکدے سے نکلتے ...

    مزید پڑھیے

    نہ پورے ہوئے با خدا بیچتے ہیں

    نہ پورے ہوئے با خدا بیچتے ہیں یوں خواب و خیالوں کو جا بیچتے ہیں نہیں کوئی مخلص زمانے میں ورنہ عطا بیچتے تھے ردا بیچتے ہیں طبیبوں کی ساری ہے اپنی کہانی وفا بیچتے ہیں شفا بیچتے ہیں چلو تم بھی ہم سے یہ وعدہ کرو اب قسم کھا کے ساری انا بیچتے ہیں یہ اہل زمانہ کہاں جانتے ہیں دلوں میں ...

    مزید پڑھیے

    دیکھے ہیں مناظر جو ادھر شام سے پہلے

    دیکھے ہیں مناظر جو ادھر شام سے پہلے دن ڈھلتے بدلتی ہے نظر شام سے پہلے اترے ہیں یہاں دشت میں جو قافلے اکثر کتنے ہیں چلے پار خضر شام سے پہلے تابندہ بہاروں کے نئے رنگ لیے تو میری بھی کبھی چھت پہ اتر شام سے پہلے اس درد و ستم کا نہیں غم مجھ کو صنم تو ہے آس ہو یہ ختم سفر شام سے ...

    مزید پڑھیے

    دست دامن دعا رہے نہ رہے

    دست دامن دعا رہے نہ رہے ہم چلے اب وفا رہے نہ رہے میں فنا کی ڈگر پہ ہوں یارو اب کسی کی سزا رہے نہ رہے آئنے تم تو میرے ساتھ رہو مجھ میں چاہے ادا رہے نہ رہے جلنا قسمت میں ہے تو جلنا ہے چھت پہ کوئی گھٹا رہے نہ رہے پاؤں ننگے ہیں ہر تمنا کے سر پہ اب کے ردا رہے نہ رہے ہو گئی جو خطا تو اب ...

    مزید پڑھیے

    خواب جیسی ہی کوئی اپنی کہانی ہوتی

    خواب جیسی ہی کوئی اپنی کہانی ہوتی یوں تو برباد نہ یہ اپنی جوانی ہوتی تیرے آنے سے چہک اٹھتا یہ ویرانۂ دل پھر سے آباد وہی روش پرانی ہوتی رابطہ رکھا نہ دیا جائے سکونت کا پتہ اس طرح بھی ہے کوئی نقل مکانی ہوتی اب مرے پاس نہیں کوئی بھی رونے کا جواز ہجر موسم کی سہی اشک فشانی ...

    مزید پڑھیے