Marghoob Hasan

مرغوب حسن

مرغوب حسن کی غزل

    وہ پیچ و خم جو الگ میری رہ گزر سے تھا

    وہ پیچ و خم جو الگ میری رہ گزر سے تھا مجھے خبر ہے نمایاں مرے سفر سے تھا گزر گیا تھا کسی راز کی طرح وہ نقش دھلا ہوا جو مری خاک خیر و شر سے تھا ہوا کے ساتھ سفر کا نہ حوصلہ تھا جسے سبھی کو خوف اسی لمحۂ شرر سے تھا کنار شام افق تھا وہی مگر ویران خلا کے سلسلۂ لمس کے اثر سے تھا رکا ہوا ...

    مزید پڑھیے

    خلا کا خوف پس پردۂ غبار نہیں

    خلا کا خوف پس پردۂ غبار نہیں حصار خاک سے پھر بھی کوئی فرار نہیں عبور کر لیں حدیں ہم نے نارسائی کی مگر طوالت امکاں میں اختصار نہیں یہی بہت ہے کہ مٹی جڑوں سے لپٹی ہے وگرنہ آج درختوں میں برگ و بار نہیں کہیں یہ سیل سفر رائیگاں نہ ثابت ہو کہ جستجو کے شب و روز کا شمار نہیں سمٹ رہے ...

    مزید پڑھیے

    دریاؤں کے ستم سے بچاتا رہے کوئی

    دریاؤں کے ستم سے بچاتا رہے کوئی خوابیدہ ساحلوں کو جگاتا رہے کوئی صدیوں پرانی خاک سے تعمیر جسم میں کب تک لہو کا بار اٹھاتا رہے کوئی جو لوگ روز و شب کے تعاقب میں چل دئے واپس انہیں سفر سے بلاتا رہے کوئی پرواز کے اسیر ہوئے میرے بال و پر اونچائیوں سے مجھ کو گراتا رہے کوئی کب تک ...

    مزید پڑھیے