Marghoob Asar Fatmi

مرغوب اثر فاطمی

مرغوب اثر فاطمی کے تمام مواد

15 غزل (Ghazal)

    بس ایک بار اٹھیں سامنا ہی کر ڈالیں

    بس ایک بار اٹھیں سامنا ہی کر ڈالیں وبال جان ہے ڈر خاتمہ ہی کر ڈالیں قبولیت کو سنا ہے کہ ضد دعا سے ہے تو کیوں نہ ایسا کریں بد دعا ہی کر ڈالیں کھسکتے لمحوں سے یہ زندگی نے پوچھ لیا حقیر ہم ہیں کہ تم فیصلہ ہی کر ڈالیں نشاط و کیف کے سامان عن قریب کہاں اب اختصار صف مدعا ہی کر ...

    مزید پڑھیے

    ہم تو مسحور تھے شدت کے سبب بول اٹھے

    ہم تو مسحور تھے شدت کے سبب بول اٹھے وہ بت سنگ بھی ممکن ہے کہ اب بول اٹھے پھول الفاظ کے پھینکے ہیں اسی کی جانب جانے وہ جان ادا ناز سے کب بول اٹھے سامنا ان کا ہوا جب تو تھی نظریں نیچی بے قراری میں مرے دست طلب بول اٹھے قتل میرا بھی ہوا اور شہ وقت کا بھی اک پہ خاموش رہے ایک پہ سب بول ...

    مزید پڑھیے

    درمیاں آ رہی ہے نفرت کیوں

    درمیاں آ رہی ہے نفرت کیوں جب گلے مل گئے شکایت کیوں آدمی تم بھی آدمی ہم بھی پھر ہوئی ختم آدمیت کیوں ہو گیا عشق آپ کو شاید عمر اس میں نئی مصیبت کیوں کون رکھ پایا مال و دولت کو جانے والے سے یہ محبت کیوں تھک گیا ہے مرا ستم گر کیا سانس لے لینے کی اجازت کیوں سب کی مائیں بھی بیٹیاں ...

    مزید پڑھیے

    نہ کوئی در نہ دریچہ مگر مکان تو ہے

    نہ کوئی در نہ دریچہ مگر مکان تو ہے زمیں ہے زیر قدم سر پہ آسمان تو ہے ہزار جلووں کا تو رازداں ہے آئینہ ہوئی نہ آنکھ میسر تجھے زبان تو ہے بدلتا رہتا ہے رنگ آسمان لمحوں میں ستم شعار ابھی مجھ سے خوش گمان تو ہے غم حیات سے گھبرا کے تجربے کے لئے چلے ہی جائیں گے اب دوسرا جہاں تو ہے تمام ...

    مزید پڑھیے

    حریم ناز سے آتا ہے بہرہ ور کوئی

    حریم ناز سے آتا ہے بہرہ ور کوئی دل آئینہ پہ لیے نقش فی الحجر کوئی حصار درد کی اونچائی بڑھتی جاتی ہے خوشی کی آندھیاں آ کر بنائیں در کوئی پڑا ہے یادوں کے حجرے میں قفل مدت سے ہنوز دیتا ہے دستک سی معتبر کوئی چمکتی راہ تو نظروں سے ہے ابھی اوجھل چراغ چرخ کی ملتی نہیں خبر کوئی یہ ...

    مزید پڑھیے

تمام