مرغوب علی کے تمام مواد

14 غزل (Ghazal)

    عجیب شخص ہے کیسی یہ جستجو ہے اسے

    عجیب شخص ہے کیسی یہ جستجو ہے اسے پلک سے خار اٹھانے کی آرزو ہے اسے وہ خواہشوں کے دیے ہر قدم جلاتا ہے تلاش کون سے چہرے کی چار سو ہے اسے وہ طاق طاق جو یادوں کے پھول رکھتا ہے یہ کس جنون کی دیوار روبرو ہے اسے زمانے بھر کے ستارے ہیں آنکھ کے آگے بس ایک نام ہی کیوں حرف گفتگو ہے اسے کیوں ...

    مزید پڑھیے

    یقیں گم ہو چکا ہم سے گماں محفوظ رکھا ہے

    یقیں گم ہو چکا ہم سے گماں محفوظ رکھا ہے خیال و خواب سا رنگیں جہاں محفوظ رکھا ہے ہوا مسمار سب لیکن جہاں تم گھر بناتے تھے وہ دل کا ایک ٹکڑا جان جاں محفوظ رکھا ہے شکستہ ہو چکے جل بجھ چکے تاریخ شاہد ہے فضاؤں میں مگر اب تک دھواں محفوظ رکھا ہے زمیں پر جو بھی ممکن تھا وہ سب کچھ کر لیا ...

    مزید پڑھیے

    گر ہوں منصور تو سولی پہ چڑھا دے مجھ کو

    گر ہوں منصور تو سولی پہ چڑھا دے مجھ کو اور ہوں سقراط تو لا زہر پلا دے مجھ کو وصل کا گل نہ سہی ہجر کا کانٹا ہی سہی کچھ نہ کچھ تو مری وحشت کا صلہ دے مجھ کو کب تلک اور جلوں آگ میں تنہائی کی زندگی اب یہی بہتر ہے بجھا دے مجھ کو تھرتھراتی ہوئی پلکوں پہ سجانے والے اشک بے کار کی مانند گرا ...

    مزید پڑھیے

    اگر پھر شہر میں وہ خوش ادا واپس پلٹ آئے

    اگر پھر شہر میں وہ خوش ادا واپس پلٹ آئے ملاقاتوں کا شاید سلسلہ واپس پلٹ آئے میں اس کو بھول جاؤں رات یہ مانگی دعا میں نے کروں کیا میں اگر میری دعا واپس پلٹ آئے گزرتا ہی نہیں موسم جدائی کے دیاروں کا ملن رت کے کناروں سے ہوا واپس پلٹ آئے وہ اب ان راستوں پر ہے جہاں بس پھول کھلتے ...

    مزید پڑھیے

    مل جائے کسی شام کسی رات کسی دن

    مل جائے کسی شام کسی رات کسی دن وہ میرے تصور کی ملاقات کسی دن احباب نے اک شخص تراشا ہے عجب سا اس کو بھی یہاں لائیں گے ہم ساتھ کسی دن خوابوں کے بہت پھول مہکتے ہیں لبوں پر تعبیر کی ہو جائے کوئی بات کسی دن وہ آنکھ جو صحرا کی طرح ہے یک و تنہا اس راہ میں رکھ دو کوئی برسات کسی دن بے خوف ...

    مزید پڑھیے

تمام