مقبول نقش کی غزل

    دل کا اک اک داغ شمع زیر داماں ہو گیا

    دل کا اک اک داغ شمع زیر داماں ہو گیا ہم جہاں پہنچے وہیں جشن چراغاں ہو گیا چاک دل کی بات تھی چاک جگر کی بات تھی مفت میں رسوا مرا چاک گریباں ہو گیا رقص کر یوں ایک اک بند عناصر ٹوٹ جائے اے جنوں پابندیوں سے دل پریشاں ہو گیا کس سے پوچھوں ارتقا کی کون سی منزل ہے یہ آدمی خود آدمی کا ...

    مزید پڑھیے

    اتفاقاً جو کہیں اب وہ نظر آتے ہیں

    اتفاقاً جو کہیں اب وہ نظر آتے ہیں کتنی یادوں کے حسیں نقش ابھر آتے ہیں کیسے گزری شب آشفتہ سراں کس کو خبر لوگ تو بام پہ ہنگام سحر آتے ہیں سوچ لیں آپ مرا ساتھ کہاں تک دیں گے مرحلے سیکڑوں دوران سفر آتے ہیں یوں غلط تو نہیں چہروں کا تأثر بھی مگر لوگ ویسے بھی نہیں جیسے نظر آتے ہیں ان ...

    مزید پڑھیے

    مقام امن قفس کیا کہ آشیاں بھی نہیں

    مقام امن قفس کیا کہ آشیاں بھی نہیں سکوں وہاں بھی نہیں تھا سکوں یہاں بھی نہیں مرا کلام پیام عمل نہ ہو لیکن تمام تر نگہ‌ و دل کی داستاں بھی نہیں مری نگاہ میں منزل ہے عام انساں کی مقام دار نہیں بزم مہ رخاں بھی نہیں یہ بار شدت احساس کا ہے نادانو گراں ہے زیست مگر اس قدر گراں بھی ...

    مزید پڑھیے

    سچ ہے ہوگا دنیا میں کوئی ہم سا کم تنہا

    سچ ہے ہوگا دنیا میں کوئی ہم سا کم تنہا ہم نفس نفس تنہا ہم قدم قدم تنہا دہر آئنہ خانہ اور اس میں ہم تنہا دیکھیے تو اک محفل ویسے ایک دم تنہا آرزو رفاقت کی آدمی کی فطرت ہے زندگی نہیں کٹتی آپ ہوں کہ ہم تنہا زندگی کی راہوں میں ساتھ چھوڑنے والو کاش دیکھ لیتے تم چل کے دو قدم تنہا صرف ...

    مزید پڑھیے

    حد پرواز جمال آپ کی انگڑائی ہے

    حد پرواز جمال آپ کی انگڑائی ہے اس سے آگے مرے احساس کی رعنائی ہے اب سفر اور بھی دشوار ہوا ہم سفرو تیرگی راہ کی ذہنوں میں سمٹ آئی ہے تھے جو محبوس تو آفاق نگاہی تھی نصیب ہوئے آزاد تو ہر چیز علاقائی ہے ہم کبھی روئے تھے جس بات پہ پہروں اے نقشؔ آج اس بات پہ رہ رہ کے ہنسی آئی ہے

    مزید پڑھیے

    اتنا مجبور آدمی کیوں ہے

    اتنا مجبور آدمی کیوں ہے اور اگر ہے تو آگہی کیوں ہے ہر نفس نعرۂ خودی کیوں ہے اتنا احساس کمتری کیوں ہے تیرگی عجز صاحبان نظر روشنی تک ہی روشنی کیوں ہے آج ہی تو کسی سے بچھڑے ہیں آج کی رات چاندنی کیوں ہے لوگ کیا جانے کیا سمجھ بیٹھیں نقشؔ سے اتنی بے رخی کیوں ہے

    مزید پڑھیے