Maqbool Aamir

مقبول عامر

  • 1955 - 1990

مقبول عامر کی غزل

    بلا کی دھوپ تھی ساری فضا دہکتی رہی

    بلا کی دھوپ تھی ساری فضا دہکتی رہی مگر وفا کی کلی شاخ پر چٹکتی رہی بچھڑتے وقت میں اس کو دلاسہ دیتا رہا وہ بے زباں تھی مجھے بے بسی سے تکتی رہی اسے خبر تھی کہ ہم اہل دشت پیاسے ہیں جبھی تو موج کناروں سے سر پٹکتی رہی الم نصیب تو رو رو کے سو گئے آخر مگر ملول ہوا رات بھر سسکتی رہی دم ...

    مزید پڑھیے

    میری تعریف کرے یا مجھے بدنام کرے

    میری تعریف کرے یا مجھے بدنام کرے جس نے جو بات بھی کرنی ہے سر عام کرے زخم پر وقت کا مرہم تو لگا دیتی ہے اور کیا اس کے سوا گردش ایام کرے محتسب سے میں اکیلا ہی نمٹ سکتا ہوں جس نے جو جرم کیا ہے وہ مرے نام کرے وہ مری سوچ سے خائف ہے تو اس سے کہنا مجھ میں اڑتے ہوئے طائر کو تہہ دام ...

    مزید پڑھیے

    یہی چنار یہی جھیل کا کنارا تھا

    یہی چنار یہی جھیل کا کنارا تھا یہیں کسی نے مرے ساتھ دن گزارا تھا نظر میں نقش ہے صبح سفر کی ویرانی بس ایک میں تھا اور اک صبح کا ستارا تھا مرے خلاف گواہی میں پیش پیش رہا وہ شخص جس نے مجھے جرم پر ابھارا تھا خراج دیتا چلا آ رہا ہوں آج تلک میں ایک روز زمانے سے جنگ ہارا تھا مجھے خود ...

    مزید پڑھیے

    اندھیری رات ہے رستہ سجھائی دے تو چلیں

    اندھیری رات ہے رستہ سجھائی دے تو چلیں سر فلک کوئی تارہ دکھائی دے تو چلیں رکے ہیں یوں کہ سلاسل پڑے ہیں پاؤں میں زمین بند وفا سے رہائی دے تو چلیں کسی طرف سے تو کوئی بلاوا آ جائے کوئی صدا سر محشر سنائی دے تو چلیں سفر پہ نکلیں مگر سمت کی خبر تو ملے کوئی کرن کوئی جگنو دکھائی دے تو ...

    مزید پڑھیے