Manzoor Hashmi

منظور ہاشمی

منظور ہاشمی کے تمام مواد

18 غزل (Ghazal)

    شوق جب جرأت اظہار سے ڈر جائے گا

    شوق جب جرأت اظہار سے ڈر جائے گا لفظ خود اپنا گلا گھونٹ کے مر جائے گا تیز رفتار ہواؤں کو یہ احساس کہاں شاخ سے ٹوٹے گا پتا تو کدھر جائے گا یہ چمکتا ہوا سورج بھی مری شام کے بعد رات کے گہرے سمندر میں اتر جائے گا صرف اک گھر کو ڈبونا ہی نہیں کام اس کا اب یہ سیلاب کسی اور کے گھر جائے ...

    مزید پڑھیے

    کسی بہانے سہی دل لہو تو ہونا ہے

    کسی بہانے سہی دل لہو تو ہونا ہے اس امتحاں میں مگر سرخ رو تو ہونا ہے ہمارے پاس بشارت ہے سبز موسم کی یقیں کی فصل لگائیں نمو تو ہونا ہے میں اس کے بارے میں اتنا زیادہ سوچتا ہوں کہ ایک روز اسے روبرو تو ہونا ہے لہولہان رہیں ہم کہ شاد کام رہیں شریک قافلۂ رنگ و بو تو ہونا ہے کوئی کہانی ...

    مزید پڑھیے

    طلسم کوہ ندا جب بھی ٹوٹ جائے گا

    طلسم کوہ ندا جب بھی ٹوٹ جائے گا تو کاروان صدا بھی پلٹ کے آئے گا کھنچی رہیں گی سروں پر اگر یہ تلواریں متاع زیست کا احساس بڑھتا جائے گا ہوائیں لے کے اڑیں گی تو برگ آوارہ نشان کتنے نئے راستوں کا پائے گا میں اپنے قتل پہ چیخا تو دور دور تلک سکوت دشت میں اک ارتعاش آئے گا کواڑ اپنے ...

    مزید پڑھیے

    کچھ خیال دل ناشاد تو کر لینا تھا

    کچھ خیال دل ناشاد تو کر لینا تھا وہ نہیں تھا تو اسے یاد تو کر لینا تھا کچھ اڑانوں کے لیے اپنے پروں کو پہلے جنبش و جست سے آزاد تو کر لینا تھا پھر ذرا دیکھتے تاثیر کسے کہتے ہیں دل کو بھی شامل فریاد تو کر لینا تھا کوئی تعمیر کی صورت بھی نکل ہی آتی پہلے اس شہر کو برباد تو کر لینا ...

    مزید پڑھیے

    نہیں تھا کوئی ستارا ترے برابر بھی

    نہیں تھا کوئی ستارا ترے برابر بھی ہوا غروب ترے ساتھ تیرا منظر بھی پگھلتے دیکھ رہے تھے زمیں پہ شعلے کو رواں تھا آنکھ سے اشکوں کا اک سمندر بھی کہیں وہ لفظ میں زندہ کہیں وہ یادوں میں وہ بجھ چکا ہے مگر ہے ابھی منور بھی عجب گھلاوٹیں شہد و نمک کی نطق میں تھی وہی سخن کہ تھا مرہم بھی ...

    مزید پڑھیے

تمام