شوق جب جرأت اظہار سے ڈر جائے گا
شوق جب جرأت اظہار سے ڈر جائے گا لفظ خود اپنا گلا گھونٹ کے مر جائے گا تیز رفتار ہواؤں کو یہ احساس کہاں شاخ سے ٹوٹے گا پتا تو کدھر جائے گا یہ چمکتا ہوا سورج بھی مری شام کے بعد رات کے گہرے سمندر میں اتر جائے گا صرف اک گھر کو ڈبونا ہی نہیں کام اس کا اب یہ سیلاب کسی اور کے گھر جائے ...