Manzoor Depalpuri

منظور دیپالپوری

منظور دیپالپوری کی غزل

    کنارے پر سمندر ڈوبتے ہیں

    کنارے پر سمندر ڈوبتے ہیں چلو کچھ اور اندر ڈوبتے ہیں اسے ہم راستہ کہتے ہیں اپنا جہاں لشکر کے لشکر ڈوبتے ہیں ترے شانے کو دریا چھو رہا ہے ہمارے تو یہاں سر ڈوبتے ہیں تری غزلوں کو پڑھ کر سوچتا ہوں تری آنکھوں میں منظر ڈوبتے ہیں تری قربت سبب ہے ڈوبنے کا کنارے پر بنے گھر ڈوبتے ...

    مزید پڑھیے

    ہوگا اجالا دعوے داری اس کی تھی

    ہوگا اجالا دعوے داری اس کی تھی اور اندھیرے سے بھی یاری اس کی تھی شکر خدا کا جیت گئے ہم جنگ مگر ہم سے بہتر تو تیاری اس کی تھی یہ بھی سچ ہے میں اس بار بھی آگے تھا یہ بھی سچ ہے اب کے باری اس کی تھی میرے بس میں روٹھ کے جانا تھا منظور مجھے منانا ذمہ داری اس کی تھی

    مزید پڑھیے

    تمہاری ہوشیاری چھین لے گا

    تمہاری ہوشیاری چھین لے گا بہت کچھ یے مداری چھین لے گا وہی جو ہوش میں لکھا ہے میں نے تری ساری خماری چھین لے گا مجاور نے ہماری جیب کاٹی ترا پیسہ پجاری چھین لے گا بدلتے وقت کی فطرت یہی ہے تری پہچان ساری چھین لے گا ہمارا ہاتھ بھی زخمی ہے لیکن کئی ہاتھوں سے آری چھین لے گا

    مزید پڑھیے