Manzoor Ahmad Manzoor

منظور احمد منظور

منظور احمد منظور کی غزل

    جبیں پہ گرد کدورت مرا اصول نہیں

    جبیں پہ گرد کدورت مرا اصول نہیں جفائے اہل زمانہ پہ دل ملول نہیں مری خودی تو کھٹکتی تھی تیری آنکھوں میں ترے حضور مرا عجز بھی قبول نہیں یہ بکھرے تارے یہ بے نظم پھول شاہد ہیں نمود حسن میں پابندئ اصول نہیں ضرور کچھ تو ہے اپنی حیات کا مقصد سنا ہے چیز کوئی دہر میں فضول نہیں مرے ...

    مزید پڑھیے

    کیف ادا بھی ہے نگہ پرفتن کے ساتھ

    کیف ادا بھی ہے نگہ پرفتن کے ساتھ لگتی ہے دل پہ چوٹ مگر بانکپن کے ساتھ خنکی ہے چاندنی میں تمازت ہے دھوپ میں تشبیہ کس کو دیں ترے نور بدن کے ساتھ سر دے کے سرخ رو تھے کبھی بندگان عشق رسم کہن تھی ختم ہوئی کوہ کن کے ساتھ اک مصلحت کی مہر ہے لب پر لگی ہوئی ورنہ ہزار شکوے ہیں اہل وطن کے ...

    مزید پڑھیے

    زمانہ ہیچ ہے اس کی نگاہ میں اے دوست

    زمانہ ہیچ ہے اس کی نگاہ میں اے دوست جو آ گیا ترے غم کی پناہ میں اے دوست جھلک رہی ہے جو چشم سیاہ میں اے دوست وہ موج نور کہاں مہر و ماہ میں اے دوست لہو جو سینۂ دہقاں سے بوند بوند گرا چمک رہا ہے وہی تاج شاہ میں اے دوست صنم کدے میں بھی جس شرک کو اماں نہ ملی فروغ پر ہے وہی خانقاہ میں اے ...

    مزید پڑھیے

    خلوص عجز و بندگی رہین در نہیں تو کیا

    خلوص عجز و بندگی رہین در نہیں تو کیا حرم سے بے نیاز ہے اگر مری جبیں تو کیا یہاں تو بوند بوند کو نظر ترس ترس گئی ملیں اگر بہشت میں شراب و انگبیں تو کیا نمود زندگی وہی خروش و ہمہمہ وہی اجڑ گئے مکاں تو کیا بدل گئے مکیں تو کیا شرر بکف نجوم بھی ردائے گل بھی خونچکاں نکھر گیا فلک تو کیا ...

    مزید پڑھیے

    قمر بھی دور نہ تھا کہکشاں بلند نہ تھی

    قمر بھی دور نہ تھا کہکشاں بلند نہ تھی ہمیں کو فرش سے دوری مگر پسند نہ تھی ذرا سی آتش غم سے چٹخ کے بجھ جاتی مری حیات جنوں دانۂ سپند نہ تھی لہو زمیں کے شگافوں سے بے سبب پھوٹا فلک کی آنکھ ابھی مائل گزند نہ تھی یہی کہ پاس تھا تقدیس بام کا ورنہ طلب کے ہاتھ میں کیا شوق کی کمند نہ ...

    مزید پڑھیے

    ستم یہ ہے کہ ان کا جور پیہم کم نہیں ہوتا

    ستم یہ ہے کہ ان کا جور پیہم کم نہیں ہوتا مزاج عشق اس پر بھی کبھی برہم نہیں ہوتا یہ حالت ہے کہ کچھ پا کر خوشی دل کو نہیں ہوتی اگر کچھ کھو بھی جاتا ہے تو اس کا غم نہیں ہوتا کبھی ہنستے ہیں اور آنکھوں میں آنسو آئے جاتے ہیں کبھی روتے ہیں اور دامان مژگاں نم نہیں ہوتا خلوص اور آشتی کی ...

    مزید پڑھیے

    مد نظر نہیں ہے فقط مہرباں کی خیر

    مد نظر نہیں ہے فقط مہرباں کی خیر شامل مری دعا میں دل دشمناں کی خیر فرصت ملے تو اپنی زمیں کی خبر بھی لے اے رب ذو الجلال ترے آسماں کی خیر جوش جنوں میں پیش نظر مصلحت بھی تھی سجدے کیے ہیں مانگ کے اس آستاں کی خیر ہر انس و جاں نے آنکھ کڑے وقت پھیر لی ہم تھے کہ مانگتے رہے ہر انس‌ و جاں ...

    مزید پڑھیے

    دل لگی باد خزاں کر لے گلستانوں کے ساتھ

    دل لگی باد خزاں کر لے گلستانوں کے ساتھ ہو چلے ہیں ہم بھی کچھ مانوس ویرانوں کے ساتھ حشر سے کچھ کم نہ تھی گزری جو اے رب جلیل تیرے انسانوں کے ہاتھوں تیرے انسانوں کے ساتھ عقل جب رک جائے تو لازم ہے مہمیز جنوں کوئی دیوانہ بھی ہوتا کاش فرزانوں کے ساتھ زور پر ہے زہد کے پردے میں جنگ زر ...

    مزید پڑھیے