مدت کے بعد ایسی سنائی خبر مجھے
مدت کے بعد ایسی سنائی خبر مجھے میں نامہ بر کو دیکھتا ہوں نامہ بر مجھے محفل پہ اپنی ناز تمہیں موت پر مجھے بس جاؤ اب نہ دیکھنا کل سے ادھر مجھے سو راتیں ایک ہجر کی شب میں تمام کیں جب آنکھ بند کی نظر آئی سحر مجھے سادہ ورق جواب میں اک لا کے دے گیا دیوانہ جانتا ہے مرا نامہ بر مجھے ہاں ...