Manzar Lakhnavi

منظر لکھنوی

  • - 1965

منظر لکھنوی کے تمام مواد

21 غزل (Ghazal)

    مدت کے بعد ایسی سنائی خبر مجھے

    مدت کے بعد ایسی سنائی خبر مجھے میں نامہ بر کو دیکھتا ہوں نامہ بر مجھے محفل پہ اپنی ناز تمہیں موت پر مجھے بس جاؤ اب نہ دیکھنا کل سے ادھر مجھے سو راتیں ایک ہجر کی شب میں تمام کیں جب آنکھ بند کی نظر آئی سحر مجھے سادہ ورق جواب میں اک لا کے دے گیا دیوانہ جانتا ہے مرا نامہ بر مجھے ہاں ...

    مزید پڑھیے

    چمکا ہے یوں نصیب کا تارا کبھی کبھی

    چمکا ہے یوں نصیب کا تارا کبھی کبھی ہم کو تو خود اسی نے پکارا کبھی کبھی لے ڈوبتا ہے دل کو سہارا کبھی کبھی منجدھار بن گیا ہے کنارا کبھی کبھی یہ بھی ہوا ہے حال ہمارا کبھی کبھی اپنے کو ہم نے آپ پکارا کبھی کبھی اپنے سے بے نیاز ہوا جا رہا ہوں میں سن سن کے تم سے حال تمہارا کبھی ...

    مزید پڑھیے

    انجام محبت سے میں بیگانہ نہیں ہوں

    انجام محبت سے میں بیگانہ نہیں ہوں دیوانہ بنا پھرتا ہوں دیوانہ نہیں ہوں دم بھر میں جو ہو ختم وہ افسانہ نہیں ہوں انسان ہوں انسان میں پروانہ نہیں ہوں ساقی تری آنکھوں کو سلامت رکھے اللہ اب تک تو میں شرمندۂ پیمانہ نہیں ہوں ہو بار نہ خاطر پہ تو ناصح کہوں اک بات سمجھا لیں جسے آپ وہ ...

    مزید پڑھیے

    عید کا دن ہوا کرتی تھی ہر اک رات مجھے

    عید کا دن ہوا کرتی تھی ہر اک رات مجھے ہائے وہ وقت کہ راس آتی تھی برسات مجھے کچھ بھی ہو توبہ محبت سے نہ ہوگی واعظ جان و دل دونوں سے پیاری ہے مری بات مجھے جگمگاتی تری آنکھوں کی قسم فرقت میں بڑے دکھ دیتی ہے یہ تاروں بھری رات مجھے دل نے ان کو بھی کیا چشم مروت کے سپرد آپ سے تھے بھی جو ...

    مزید پڑھیے

    دل سے نہ وہی اور ہیں منظرؔ نہ ہمیں اور

    دل سے نہ وہی اور ہیں منظرؔ نہ ہمیں اور یہ وقت ہے جو ہم ہیں کہیں اور وہ کہیں اور ہنس کر نہیں اب روٹھ کے اک بار نہیں اور غصہ کرو غصہ کرو بن جاؤ حسیں اور سب وہم تھا دنیا تھی فلک تھا نہ زمیں اور جب آئینہ دیکھا تو نظر آئے ہمیں اور ہمیں اور میرا تو سلام اس کو بہار در جاناں تجھ سے اگر ...

    مزید پڑھیے

تمام