Mannan Bijnori

منّان بجنوری

منّان بجنوری کی غزل

    ذائقے پیدا طبیعت میں لچک کرتے ہیں

    ذائقے پیدا طبیعت میں لچک کرتے ہیں آ تجھے واقف قند اور نمک کرتے ہیں آؤ چلتے ہیں جہاں سازش احباب نہ ہو دشمنی کا یہ سفر دوستی تک کرتے ہیں وہ جو انسان کے ہی بس میں ہے اس پر انساں جانے کس منہ سے شکایات فلک کرتے ہیں کھلنے ہی والا ہے بس اندھی عقیدت کا بھرم ہم سے کچھ لوگ بہت چھان‌ پھٹک ...

    مزید پڑھیے

    آرزوؤں نے اچھل کود مچائی ہوئی ہے

    آرزوؤں نے اچھل کود مچائی ہوئی ہے جب سے تجھ تک مری چاہت کی رسائی ہوئی ہے مجھ سے اصرار ہے دل کا کہ بنوں صحرائی خاک نادان نے سینے میں اڑائی ہوئی ہے دور سے تاپنے والے بھی جھلس سکتے ہیں تیری رعنائی نے وہ آگ لگائی ہوئی ہے رہ کے سینے میں مرے تیرا طرفدار ہے دل ساری پٹی تری آنکھوں کی ...

    مزید پڑھیے

    آپسی باتوں کو اخبار نہیں ہونے دیا

    آپسی باتوں کو اخبار نہیں ہونے دیا ہم نے یہ کمرہ ہوا دار نہیں ہونے دیا بد گمانی کو کیا چائے پلا کر رخصت ناشتے کا بھی طلب گار نہیں ہونے دیا دل کے زخموں کی خبر ہونے نہ دی اشکوں کو غم کا آنکھوں سے سروکار نہیں ہونے دیا سخت لفظوں میں بھی دیتی ہے مزا بات اس کی اس نے لہجے کو دل آزار نہیں ...

    مزید پڑھیے

    قوت جور جائے چھن تجھ سے جو تو جفا کرے

    قوت جور جائے چھن تجھ سے جو تو جفا کرے تو بھی ہو بے بس ایک دن ایسا بھی ہو خدا کرے چھیڑے کوئی جو غم کی بات تیرا بھی جائے دل پہ ہاتھ سینے میں دھڑکنوں کے ساتھ تیر سا کچھ چبھا کرے تیرے بھی ہونٹ جائیں سل تو بھی کبھی ہو منفعل رخ پہ برس کے ابر دل قصۂ دل کہا کرے آتش شوق ہو نہ کم بڑھتی ہی ...

    مزید پڑھیے

    کڑھاؤ رکھ کے تخیل پہ آسمان تلے

    کڑھاؤ رکھ کے تخیل پہ آسمان تلے یقیں کے تیل میں لوگوں نے سب گمان تلے عقیدتوں کا عجب فلسفہ ہے کیا کیا جائے کہ اس میں انگلیاں دب جاتی ہیں کمان تلے زبان آگ سہی دل ہمارا جل تھل ہے تپش پہنچتی نہیں لو کی شمع دان تلے فساد بالا نشینوں کی شہہ پہ ہوتا ہیں وگرنہ رہتے نہیں دانت کیا زبان ...

    مزید پڑھیے

    شب بے ماہ بھی اس کی نہیں کالی ہوگی

    شب بے ماہ بھی اس کی نہیں کالی ہوگی جس نے کترن بھی ترے نور کی پا لی ہوگی لوگ کہتے ہیں کوئی تجھ سا حسیں اور بھی ہے میں یہ کہتا ہوں کہ یہ بات خیالی ہوگی اس نے بھی مجھ کو یہی سوچ کے ڈھونڈا نہ کبھی میں نے اب تک تو نئی دنیا بسا لی ہوگی جب سنا ایک اندھیرا سا ہے گھر میں میرے دکھ سے بولے ...

    مزید پڑھیے

    قدم سو من کے لگتے ہیں کمر ہی ٹوٹ جاتی ہے

    قدم سو من کے لگتے ہیں کمر ہی ٹوٹ جاتی ہے کوئی امید جب بر آتی آتی ٹوٹ جاتی ہے دریچے بند ذہنوں کے نہیں کھلتے ہیں طاقت سے لگا ہو زنگ تالے میں تو چابی ٹوٹ جاتی ہے تری الفت میں ایسا حال ہے جیسے کوئی مچھلی نگل لیتی ہے کانٹا اور لگی ٹوٹ جاتی ہے جدھر کے ہو ادھر کے ہو رہو دل سے تو بہتر ...

    مزید پڑھیے

    حسن ہے مغرور دل سودائی ہے

    حسن ہے مغرور دل سودائی ہے عشق اور نفرت میں ہاتھا پائی ہے دھڑکنوں میں کر دیا پیدا فساد ہر ادا میں تیری اک بلوائی ہے ہم نے خود دیکھی ہے دست غیر میں تیری تو تصویر بھی ہرجائی ہے وجد آنکھوں میں ہے باسی نیند کا وصل کی جب سے کرم فرمائی ہے تم کو دیکھے بن گزرنا چھیڑ تھا دل پہ مت لو داغ ...

    مزید پڑھیے

    وہ ہمیں کیسے بھلا اہل وفا مانے گا

    وہ ہمیں کیسے بھلا اہل وفا مانے گا خود پہ نازاں ہے اداؤں کا صلہ مانے گا بے یقیں ہے ہم اگر اس کے لئے جان بھی دیں قبر کو شعبدہ بازوں کا گڑھا مانے گا عقل اکبر ہے تو کیا دل بھی ہے شہزادہ سلیم عشق میں کون بزرگوں کا کہا مانے گا پرسش حال نہیں ہے کوئی صحرا کی طرح کیوں نہ بستی کو جنوں دشت‌ ...

    مزید پڑھیے

    درد کے بیج بو لئے رنج و الم اگا لئے

    درد کے بیج بو لئے رنج و الم اگا لئے عشق میں دل کی مان کر ہم نے یہ گل کھلا لئے تیلی دکھا تو دی مگر جلدی سے پھر بجھا کے آگ اس نے مرے تمام خط جھاڑ کے دھول اٹھا لئے قلت اشک اب کبھی ہوگی نہ عمر بھر ہمیں ہم نے خوشی کے شوق میں اتنے تو غم کما لئے تنہا رہیں گے کس طرح ہائے یہ ہم نے کیا ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2