Mannan Bijnori

منّان بجنوری

منّان بجنوری کے تمام مواد

11 غزل (Ghazal)

    ذائقے پیدا طبیعت میں لچک کرتے ہیں

    ذائقے پیدا طبیعت میں لچک کرتے ہیں آ تجھے واقف قند اور نمک کرتے ہیں آؤ چلتے ہیں جہاں سازش احباب نہ ہو دشمنی کا یہ سفر دوستی تک کرتے ہیں وہ جو انسان کے ہی بس میں ہے اس پر انساں جانے کس منہ سے شکایات فلک کرتے ہیں کھلنے ہی والا ہے بس اندھی عقیدت کا بھرم ہم سے کچھ لوگ بہت چھان‌ پھٹک ...

    مزید پڑھیے

    آرزوؤں نے اچھل کود مچائی ہوئی ہے

    آرزوؤں نے اچھل کود مچائی ہوئی ہے جب سے تجھ تک مری چاہت کی رسائی ہوئی ہے مجھ سے اصرار ہے دل کا کہ بنوں صحرائی خاک نادان نے سینے میں اڑائی ہوئی ہے دور سے تاپنے والے بھی جھلس سکتے ہیں تیری رعنائی نے وہ آگ لگائی ہوئی ہے رہ کے سینے میں مرے تیرا طرفدار ہے دل ساری پٹی تری آنکھوں کی ...

    مزید پڑھیے

    آپسی باتوں کو اخبار نہیں ہونے دیا

    آپسی باتوں کو اخبار نہیں ہونے دیا ہم نے یہ کمرہ ہوا دار نہیں ہونے دیا بد گمانی کو کیا چائے پلا کر رخصت ناشتے کا بھی طلب گار نہیں ہونے دیا دل کے زخموں کی خبر ہونے نہ دی اشکوں کو غم کا آنکھوں سے سروکار نہیں ہونے دیا سخت لفظوں میں بھی دیتی ہے مزا بات اس کی اس نے لہجے کو دل آزار نہیں ...

    مزید پڑھیے

    قوت جور جائے چھن تجھ سے جو تو جفا کرے

    قوت جور جائے چھن تجھ سے جو تو جفا کرے تو بھی ہو بے بس ایک دن ایسا بھی ہو خدا کرے چھیڑے کوئی جو غم کی بات تیرا بھی جائے دل پہ ہاتھ سینے میں دھڑکنوں کے ساتھ تیر سا کچھ چبھا کرے تیرے بھی ہونٹ جائیں سل تو بھی کبھی ہو منفعل رخ پہ برس کے ابر دل قصۂ دل کہا کرے آتش شوق ہو نہ کم بڑھتی ہی ...

    مزید پڑھیے

    کڑھاؤ رکھ کے تخیل پہ آسمان تلے

    کڑھاؤ رکھ کے تخیل پہ آسمان تلے یقیں کے تیل میں لوگوں نے سب گمان تلے عقیدتوں کا عجب فلسفہ ہے کیا کیا جائے کہ اس میں انگلیاں دب جاتی ہیں کمان تلے زبان آگ سہی دل ہمارا جل تھل ہے تپش پہنچتی نہیں لو کی شمع دان تلے فساد بالا نشینوں کی شہہ پہ ہوتا ہیں وگرنہ رہتے نہیں دانت کیا زبان ...

    مزید پڑھیے

تمام