Mani Jayasi

مانی جائسی

  • 1985 - 1963

مانی جائسی کی غزل

    عشق ہے غم جو سکھاتا ہے فنا ہو جانا

    عشق ہے غم جو سکھاتا ہے فنا ہو جانا درد دل ہے جسے آتا ہے دوا ہو جانا درس ہمت ہے نئے رہرو الفت کے لئے کانٹے پانا تو مرا برہنہ پا ہو جانا عشق پیارا ہے تو نعمت ہے غم مہجوری ان کا ملنا ہے محبت کا جدا ہو جانا ہوش لا حاصلیٔ شکوۂ ناکامی ہے بے خودی میں مرا راضی بہ رضا ہو جانا اے پشیمان ...

    مزید پڑھیے

    خوئے غم دل کو ہے یعنی حس غم کچھ بھی نہیں

    خوئے غم دل کو ہے یعنی حس غم کچھ بھی نہیں کیا ہے اب کار گہہ ناز و ستم کچھ بھی نہیں روز فریاد سے مغلوب نہیں طاقت شکر جبر تقدیر و گراں باریٔ غم کچھ بھی نہیں زندگی مژدۂ غم موت نوید غم نو کوئی روداد بہ ہر شان کرم کچھ بھی نہیں اک طرف حشر میں تو ایک طرف بحر کرم دامن تر تو اب اے دیدۂ نم ...

    مزید پڑھیے

    پیام یاس نہ دے اے نگاہ یار مجھے

    پیام یاس نہ دے اے نگاہ یار مجھے رکھ اضطراب کی خاطر امیدوار مجھے نئے کرشمے دکھاتا ہے اعتبار مجھے خزاں ہے عالم نیرنگیٔ بہار مجھے وفور شوق سے آنکھوں میں روح کھچ آئی پیام موت تھا وعدے کا اعتبار مجھے نظر اٹھا کہ مری زندگی کہے لبیک میں کھو نہ جاؤں کہیں اک ذرا پکار مجھے جزا ہے غم کی ...

    مزید پڑھیے

    ہر غم کو یوں تو ضبط کئے جا رہا ہوں میں

    ہر غم کو یوں تو ضبط کئے جا رہا ہوں میں اس غم کو کیا کروں کہ جئے جا رہا ہوں میں لو ساتھ دے چکی شب ہجراں کا زندگی اب شام غم کو ساتھ لئے جا رہا ہوں میں ہاں آنکھ تر نہیں مگر آنسو کہاں سے آئیں ہم راز خون دل تو پئے جا رہا ہوں میں کیسا سکوں کہ دل بھی تو ہے دفن میرے ساتھ یہ ساز اضطراب لئے ...

    مزید پڑھیے

    راہ وفا میں لوٹا گیا دل

    راہ وفا میں لوٹا گیا دل ہے ہے مرا دل بیکس مرا دل روز ازل یوں پیدا ہوا دل لی غم نے کروٹ اور بن گیا دل ہر دشمن جاں اہل وفا ہے اک با وفا تم اک با وفا دل دل جی رہا ہے غم کے سہارے جب مٹ گیا غم سمجھو مٹا دل تم دل میں ہو یا تصویر حیرت تصویر حیرت یا ہے مرا دل سنسان محفل ویران پہلو رخصت ...

    مزید پڑھیے

    ہجر کا غم بھی نہیں وصل کی پروا بھی نہیں

    ہجر کا غم بھی نہیں وصل کی پروا بھی نہیں دل بھی پہلو میں نہیں دل کی تمنا بھی نہیں نہیں درکار نہیں مجھ کو غم چارۂ غم ہاں میں دیوانہ ہوں بے شک مگر اتنا بھی نہیں تم نہ شرماؤ نہ گھبراؤ میں کہتا بھی ہوں کچھ ذکر وعدہ بھی نہیں خواہش ایفا بھی نہیں جوشش گریہ اک اعجاز ہے ورنہ دل زار آخر ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2