عشق ہے غم جو سکھاتا ہے فنا ہو جانا
عشق ہے غم جو سکھاتا ہے فنا ہو جانا درد دل ہے جسے آتا ہے دوا ہو جانا درس ہمت ہے نئے رہرو الفت کے لئے کانٹے پانا تو مرا برہنہ پا ہو جانا عشق پیارا ہے تو نعمت ہے غم مہجوری ان کا ملنا ہے محبت کا جدا ہو جانا ہوش لا حاصلیٔ شکوۂ ناکامی ہے بے خودی میں مرا راضی بہ رضا ہو جانا اے پشیمان ...