Malikzada Javed

ملک زادہ جاوید

ممتاز مقبول عام شاعر

One of the prominent popular poets.

ملک زادہ جاوید کے تمام مواد

4 غزل (Ghazal)

    کرب چہروں پہ سجاتے ہوئے مر جاتے ہیں

    کرب چہروں پہ سجاتے ہوئے مر جاتے ہیں ہم وطن چھوڑ کے جاتے ہوئے مر جاتے ہیں زندگی ایک کہانی کے سوا کچھ بھی نہیں لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں عمر بھر جن کو میسر نہیں ہوتی منزل خاک راہوں میں اڑاتے ہوئے مر جاتے ہیں کچھ پرندے ہیں جو سوکھے ہوئے دریاؤں سے علم کی پیاس بجھاتے ہوئے ...

    مزید پڑھیے

    اندھے گونگے بہرے لوگ

    اندھے گونگے بہرے لوگ اجلے کپڑے میلے لوگ کم عمری میں سنتے ہیں مر جاتے ہیں اچھے لوگ بھاگ رہے ہیں دنیا میں پاؤں کو سر پہ رکھے لوگ رستے میں مل جاتے ہیں تتلی کے پر جیسے لوگ آئینوں کو لے کر ساتھ پھرتے ہیں بے چہرے لوگ مہنگے گھر میں رہتے ہیں برف کے جیسے ٹھنڈے لوگ دور حاضر میں ...

    مزید پڑھیے

    اندھیروں سے مرا رشتہ بہت ہے

    اندھیروں سے مرا رشتہ بہت ہے میں جگنوں ہوں مجھے دکھتا بہت ہے وطن کو چھوڑ کر ہرگز نہ جانا مہاجر آنکھ میں چبھتا بہت ہے خوشی سے اس کی تم دھوکہ نہ کھانا پریشانی میں وہ ہنستا بہت ہے کسی موسم کی فطرت جاننے کو شجر کا ایک ہی پتا بہت ہے محبت کا پتا دیتی ہیں آنکھیں زباں سے وہ کہاں کھلتا ...

    مزید پڑھیے

    ایک جگنو ہے میری مٹھی میں

    ایک جگنو ہے میری مٹھی میں شور برپا ہے ساری بستی میں جل گئے پھر سے کچھ حسیں رشتے طنزیہ گفتگو کی بھٹی میں دل کی تاریکیاں ہوئیں روشن کوئی زندہ ہے میری ہستی میں جو گناہوں میں غرق رہتے تھے آج گم ہیں خدا پرستی میں دھیمے دھیمے پتا چلا جاویدؔ ان گنت خوبیاں ہیں دلی میں

    مزید پڑھیے