کرب چہروں پہ سجاتے ہوئے مر جاتے ہیں
کرب چہروں پہ سجاتے ہوئے مر جاتے ہیں ہم وطن چھوڑ کے جاتے ہوئے مر جاتے ہیں زندگی ایک کہانی کے سوا کچھ بھی نہیں لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں عمر بھر جن کو میسر نہیں ہوتی منزل خاک راہوں میں اڑاتے ہوئے مر جاتے ہیں کچھ پرندے ہیں جو سوکھے ہوئے دریاؤں سے علم کی پیاس بجھاتے ہوئے ...